تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 490
چوتھے معنے (۴) چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ہزار سے مراد ہزار ہی کے لئے جائیں۔یہ معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناقص اظلال کے متعلق صحیح اترتے ہیں۔کیونکہ آپ نے اپنے ناقص اظلال یا مجددوں کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ ہر صدی کے سر پر آئیں گے اور ہزار مہینے کا عرصہ تراسی سال اور چار مہینہ کا ہوتا ہے اور اتنی مدت صدی سے گزرجائے تو صدی کا سر آجاتا ہے۔پس ہزار کے مہینے لفظاً ہزار کے لے کر اس آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ ہم قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مجددوں اور آپ کی تعلیمات کے وجود میں ہرصدی کے سر پر نازل کرتے رہیں گے اور ان مجددوں کا زمانہ باقی تراسی سال سے بہتر ہوگا۔یعنی امت ان کی نگرانی میں جو برکات حاصل کرے گی ان کی عدم موجودگی میں وہ برکات حاصل نہ کرسکے گی۔پانچویں معنے (۵) پانچویں معنے اس کے یہ ہیں کہ اسلام کی تعلیم جس زمانہ میں رائج ہو وہ زمانہ دوسرے سب زمانوں سے مقدم ہے۔ہم دیکھتے ہیں مسلمانوں کے تنزل اور ان کے ادبار کو دیکھ کر بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ تم جس اسلامی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے اور کہتے ہو کہ اسلامی حکومت دنیا میں مساوات قائم کرتی ہے۔اسلامی حکومت غرباء کو ان کے حقوق دلاتی ہے۔اسلامی حکومت ہر قسم کے جھگڑوں اور مناقشات کا سدباب کرتی ہے۔اسلامی حکومت دنیا میں بین الاقوامی صلح کی داغ بیل ڈالتی ہے۔اسلامی حکومت دولت کو چند محدود ہاتھوں میں نہیں رہنے دیتی۔اسلامی حکومت غرباء کو آگے بڑھنے کے مواقع بہم پہنچاتی ہے۔وہ حکومت گئی کہاں؟ اگر تیس سال تک وہ دنیا میں رہی اور پھر اس کا خاتمہ ہوگیا تو اس اسلامی حکومت کا فائدہ کیا ہوا؟اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیس سال نہیں اگر وہ ایک رات کے لئے بھی قائم ہو تب بھی وہ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ہے کیونکہ وہ دنیا میں آکر ایک بیج تو بوگئی ہے، ایک نمونہ تو قائم کرگئی ہے۔اگر اس کی شکل اب قائم نہیں رہی تو کیا ہوا۔جب دنیا میں بیداری پیدا ہوگی وہ مجبور ہوگی کہ حکومت کو ان بنیادں پر قائم کرے جو اسلام نے آج سے تیرہ سو سال پہلے کھڑی کی تھیں۔اگر یہ نمونہ دنیا میں قائم نہ ہوچکا ہوتا تو دنیا اپنی ترقی کے لئے کیا کرسکتی تھی۔وہ اندھیروں میں بھٹکتی پھرتی اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے کوئی راستہ نہ پاتی۔اب بے شک دنیا میں اسلامی حکومت نہیں مگر اسلامی حکومت کا ایک نقشہ تو اس کے سامنے ہے۔جب کبھی دنیا کو اپنی حالت بدلنے کا فکر ہوگا، جب کبھی تبدیلی کا احساس رونما ہوگا لوگوں کے سامنے ایک نمونہ موجود ہوگا۔وہ کہیں گے آئو ہم اس اسلامی حکومت کی نقل کریں جو آج سے تیرہ سو سال پہلے قائم کی گئی تھی۔اس طرح پھر اس نمونہ کے ذریعہ دنیا میں روشنی نمودار ہوگئی اور اس کی مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔پس اللہ فرماتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد مسلمانوں میں خرابی پید اہوجانے سے اس رات