تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 489
سے اوپر کوئی ہندسہ نہ ہوتا تھا۔جب انہوں نے انتہاء کی طرف اشارہ کرنا ہوتا تھا تو وہ ہزار کا ہندسہ بولتے تھے۔(الجامع لاحکام القراٰن زیر آیت لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ) اس عربی محاورہ کے مطابق قرآن کریم نے ہزار کا لفظ بولا ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا کے زیادہ سے زیادہ عالم مل کر بھی وہ علوم بیان نہیں کرسکتے جو اس لیلۃ القدر میں نازل ہونے والے کلام یا نازل ہونے والے نبی نے بیان کئے ہیں۔یا آئندہ ایسے ہی تاریک زمانوں میں خدا تعالیٰ کے مامور بیان کریں گے۔اس مضمون سے مسلمانوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جب جب بھی اسلام پر کوئی مصیبت کا زمانہ آئے انہیں علماء ظاہر کی امداد پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ انہیں چاہیے کہ ایسے تاریک زمانوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی امداد کی طرف نظر رکھا کریں کہ جو کچھ آسمانی امداد اور ہدایت سے انہیں حاصل ہوگا وہ ظاہری علماء کی مجموعی کوششوں سے حاصل نہ ہوسکے گا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔یہ زمانہ اسلام کے گزشتہ زمانوں سے زیادہ تاریک ہے۔بعدزمانہ نبوی ایسا سخت زمانہ اسلام پر کبھی نہیں آیا۔لیکن مسلمان اس بلاء کے دور کرنے کے لئے انسانوں پر زیادہ نظر رکھتے ہیں بہ نسبت خدا کے۔خدا تعالیٰ نے ان دنوں میں بھی حسب بشاراتِ قرآنیہ اور حسب وعدہ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ اپنا ایک معمور بھیجاہے۔لیکن لوگوں کی اس طرف توجہ نہیں بلکہ خود ساختہ علاجوں کی طرف مائل ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کی حالت پر رحم فرمائے۔تیسرے معنے (۳) تیسرے معنے شَھْرٌ کے مہینہ کے بھی ہیں۔ان کے رو سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ کہ یہ معنے بھی ہیں کہ وہ زمانہ جس میں قرآن کریم نازل ہوا یا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوئے یا وہ زمانہ جس میں آپ کے بروزِ کامل نازل ہوں گے ہزار مہینوں سے اچھا ہے۔یعنی تمام زمانوں سے اچھا ہے۔کیونکہ میں اوپر بتا آیا ہوں کہ عربوں میں ہزار کے معنے ان گنت کے ہوتے تھے۔کیونکہ ان کے اندر ہزار سے بڑھ کر کسی گنتی کا رواج نہ تھا۔جب انہوں نے یہ بتانا ہوتا کہ فلاں چیز تو ان گنت ہے تو وہ کہتے تھے کہ وہ تو ہزار ہے۔پس اسی محاورہ کے مطابق قرآن کریم نے کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یا قرآن کریم کا زمانہ یا ان کے بروز کا زمانہ ہزار مہینہ سے اچھا ہے یعنی ان گنت مہینوں سے اچھا ہے۔کوئی دوسرا زمانہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکے گا خواہ آئندہ کا زمانہ ہو یا گزشتہ زمانہ ہو۔عربوں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے جس سے اَلْفِ شَهْرٍ کے معنے خوب روشن ہوجاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ نے ایک بدوی سے پوچھاکہ مانگو کیا مانگتے ہو۔اس نے کہا ہزار دینار دے دیں۔بادشاہ نے کہا بس اس سے زیادہ مانگو۔اس پر وہ بدوی حیرت سے بولا کیا ہزار سے اوپر بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟