تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 45

معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے ہیں۔میں گورداسپور پہنچا اور آپ کے جائے قیام کو دریافت کرتا ہوا ڈاک بنگلہ میںگیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان دنوں تشریف رکھتے تھے۔باہر حافظ حامد علی صاحب بیٹھے تھے میں نے ان سے کہا کہ میںحضرت مرزا صاحب کی زیارت کرنے کے لئے آیا ہوں کسی طرح مجھے آپ ؑ کی زیارت کرا دیں۔انہوں نے کہا اس وقت زیارت نہیں ہو سکتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک ضروری اشتہار لکھ رہے ہیں۔میں نے ان کی منتیںبھی کیں مگر انہوں نے کوئی پروا نہ کی۔آخر میں ایک طرف مایوس ہو کر بیٹھ گیا اور میں نے ارادہ کر لیاحا فظ حامد علی صاحب ذرا اِدھر اُدھر ہوں تو میں بغیر پوچھے ہی کمرہ کی چِک اٹھا کر آپ کی زیارت کر لوں گا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد ہی حافظ صاحب جو کسی کام کے لئے اٹھے تو میں چپکے سے دروازے کی طرف بڑھا اور چِک اٹھا کر اندرکی طرف جھانکا اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاغذ ہاتھ میںلئے جلدی جلدی کمرہ میںٹہل رہے تھے اور آپ کی پیٹھ دروازے کی طرف تھی۔میرا اندازہ یہ تھا کہ ابھی آپ کو واپس آنے میں کچھ دیر لگے گی اور میں اطمینان سے آپ کی زیارت کر سکوں گامگر حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام جلدی واپس لوٹ آئے اُس وقت مجھ پر ایسا رعب طاری ہوا کہ میں ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ اٹھا اور میں نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ آپ ضرور سچے ہیں جو شخص اتنا تیز تیز چلتا ہے اس نے ضرور دور تک جانا ہے۔غرض الٰہی سنت یہ ہے کہ ہر زمانہ کا جو نفس کامل ہو اس کی طرف خود بخود لوگوں کی انگلیاں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں اور وہ اسے دیکھ کر اس حقیقت کا بر ملا اظہار شروع کر دیتے ہیں کہ یہ شخص دنیا میںضرور کوئی اہم تغیر پیدا کر کے رہے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم ہر زمانہ کے نفس کامل اور اس خدا کو پیش کرتے ہیں جو ایسے کامل وجود پیدا کیا کرتا ہے یا اس زمانہ کا نفسِ کامل( جس سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ) اور جس نے اسے بنایا ہے اس کو اور اسی طرح اس نفسِ کامل کے اظلال کو تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ زندگی کے ہر شعبہ میں کامل الوجود ثابت ہوئے ہیں۔لوگ اپنے اموال کو اپنی ذات پر خرچ کرتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اموال اپنی قوم کے لئے خرچ کرتے تھے۔لوگ اپنے اوقات کو جوئے اور شراب نوشی وغیرہ میں صرف کرتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات اپنی قوم کی بہبودی کے لئے خرچ کرتے تھے۔لوگ اپنے اوقات جہالت کے لئے خرچ کرتے تھے اور آپؐاپنے اوقات علم کے لئے خرچ کرتے تھے۔لوگ اپنے دماغ دنیوی باتوں میں مشغول رکھتے تھے اور آپؐاپنے دماغ کو اگر ایک طرف خدا تعالیٰ کے احکام کی اتباع میں