تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 483

کے علاوہ کوئی اور سلسلہ بھی اس کے فضلوں کا ہوتا جو ہر وقت اور ہر لحظہ ظاہر ہوتا رہتااور یہ انفرادی فضلوں کا ہی سلسلہ ہے کسی مومن بندہ کی لیلۃالقدر کسی دن آجاتی ہے کسی کی کسی دن۔اور اس طرح روزانہ سارے سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل اس کے نیک بندوں پر نازل ہوتے رہتے ہیں۔پھر سال میں ایک دفعہ قرآن کریم کے نزول کی یاد میں ساری امت پر ایک ہی رات رمضان کے آخری عشرہ میں اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ لیلۃالقدر کبریٰ ہوتی ہے۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ بے شک آخری عشرہ رمضان میں لیلۃالقدر کا مقرر کرنا ایک احسن طریقہ مومنوں کو انعام دینے اور ان کی عبادت کی روح کے قائم رکھنے کا تھا لیکن پھر یہ کیوں ہوا کہ کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری عشرہ میں اس کی تلاش کرو اور کبھی فرمایا کہ ۲۱کو ہوتی ہے کبھی ۲۴ کو اور کبھی کئی طاق راتوں کا ذکر کردیا۔آپ نے تعیین کرنے کی کیوں کوشش کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل قانون تو لیلۃالقدر کے بارہ میں یہی ہے کہ آخری عشرہ میں بدل بدل کر آتی ہے لیکن مومن کو اللہ تعالیٰ اس کا خاص علم دے دیتا ہے چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم دیا گیا کہ لیلۃالقدر کی رات کو بارش ہوگی اور آپ کی مسجد ٹپک پڑے گی چنانچہ رمضان کی ۲۱ کو ایسا ہو گیا۔جن صحابہ کو اس کا علم ہوا انہوں نے یہ سمجھا کہ شاید لیلۃالقدر ہوتی ہی ۲۱ کو ہے۔حالانکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ اس رمضان میں لیلتہ القدر۲۱ کوتھی۔اسی طرح ایک دوسرے موقعہ پر آپ کو لیلۃ القدر بتائی گئی اور بھول گئی توآپ نے آخری طاق راتوںمیں سے کوئی اور خصوصاً ۲۷کو لیلۃالقدر قرار دیا۔پس جہاں تک آخری عشرہ میں لیلۃالقدر ہونے کا سوال ہے یہ ایک قانون ہے اور جہاں تک اس عشرہ کی کسی خاص رات کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ یا دوسرے آئمہء امت کا اشارہ ہے وہ خاص خاص رمضانوں میں ان کے آسمانی یا وجدانی علم کا نتیجہ ہے یہ قانون نہیں بتایا گیا کہ ہمیشہ اسی رات کو لیلۃالقدر ہوا کرے گی۔لیلۃ القدر کی ایک علامت ایسے موقعہ پر طبعاًیہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسی علامت ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ فلاں رات اس رمضان میں لیلۃالقدر تھی؟اس کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں یہ آتا ہے کہ کچھ بجلی چمکتی ہے ہوا ہوتی ہے اور ترشح ہوتا ہے ایک نور آسمان کی طرف جاتا یا آتا نظر آتا ہے(شرح الزرقانی، النوع الخامس فی ذکر اعتکافہ صلی اللہ علیہ وسلم) مگر اوّل ذکر علامات ضروری نہیں گو اکثر ایسا تجربہ کیا گیا ہے کہ ایسا ہوتا ہے اور آخری علامت نور دیکھنے کی صلحاء کے تجربہ میں آئی ہے یہ ایک کشفی نظارہ ہے ظاہری علامت نہیں جسے ہر اِک شخص دیکھ سکے۔خود میں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے لیکن جو کچھ میں نے دیکھا ہے دوسروں نے نہیں دیکھا۔