تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 482

رکھتی ہے جس میں قرآن کریم نازل ہواتھا اور یہ کہ ان معنوں کے روسے اصل لیلۃ القدر وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا اور صرف اس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس عہد کو تازہ کرنے کے لئے جو نزول قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے باندھا تھا اس نے لیلۃ القدر مقرر کی ہے اور اس فائدہ کو مد نظر رکھ کر کہ امت کے کمزور لوگ بھی کم سے کم دس راتیں تو خوب عبادت کرلیں اس نے رمضان کی آخری دس راتوںمیں اسے چھپا دیا ہے اور معین رات مقرر نہیں کی۔تاکہ اس کا قیام صرف ایک رسم ہو کر نہ رہ جائے جسے اسلام بہت نا پسند کرتا ہے۔اب جو چاہے رمضان کی آخری راتوں میں اسے تلاش کر سکتا ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو دس راتوں میں تلاش کرے گا اسے دین کے ساتھ پہلے سے زیادہ لگائو ہو جائے گا اور اس کے دل میں دین کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اس سے یہ امید کی جاسکے گی کہ پہلی غلطیوں کو چھوڑ کر پورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور کسی وقت اس کی ہر رات ہی لیلۃ القدر ہو جائے گی۔انفرادی لیلۃ القدر عبداللہ بن مسعودؓ اور دوسرے بزرگان دین سے جویہ روایت ثابت ہے کہ لیلۃ القدر سال میں سے کسی رات کو ظاہر ہو سکتی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ انفرادی لیلۃ القدر سال میں کسی وقت آسکتی ہے ورنہ ان کایہ منشاء نہیں کہ رمضان میں یہ لیلۃ القدر نہیں ہوتی۔کیونکہ خود ان کی دوسری روایات میں رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کے ظاہر ہونے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ وہ روایات اوپر نقل کی جا چکی ہیں۔ہم یہ تو خیال بھی نہیں کر سکتے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو رد کردیا۔صحابہؓ سے اس بات کی ہر گز امید نہیں کی جا سکتی ہے۔پس ان کے اس قول کے کہ سال کے کسی حصہ میں بھی لیلۃ القدر آسکتی ہے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ فردی لیلۃ القدر سال کی کسی رات کو آسکتی ہے نہ یہ کہ جماعتی لیلۃ القدر جسے وہ خود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے رمضان کی آخری راتوں میں قرار دے چکے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر مومن پر روحانیت کی بلوغت کا زمانہ آتا ہے آخر ہر شخص پیدائش کے وقت سے تو روحانیت میں کامل نہیں ہوتا۔اکثر لوگوں پر جسمانی بلوغت کے بعد ہی کسی وقت روحانی بلوغت کا زمانہ آتا ہے۔بعض کو جوانی میں بعض کو ادھیڑ عمر میں اور بعض کو بڑھاپے میں اور بعض کو بڑھاپے کے آخر میں۔جس رات بھی کسی مومن کی نسبت اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب سے یہ ہمارا قطعی جنّتی بندہ ہے وہی اس کی لیلۃالقدر ہے اور اس کے لئے رمضان کی کوئی شرط نہیں سارے سال میں کسی وقت کسی کی لیلۃالقدر آسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ رحمان رحیم ہے اور اس کی یہ دونوں صفات ہر وقت ظاہر ہوتی رہتی ہیں پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کے معیّن اوقات