تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 481
پر اترا تھا آپ کو وہ رات یاد ہوگی اور اگر یاد نہ بھی ہوگی توآپ کو اس آیت سے یہ تو علم ہوگیاتھا کہ لیلۃ القدر صرف قرآن کریم کے نازل ہونے کی رات ہے اور یہ راتیں کئی نہیں ہو سکتیں ایک ہی رات ایسی ہو سکتی ہے۔اس صورت میں آپ یہ کیوں فرمایا کرتے کہ فلاں راتوں میں اس کی تلاش کرو۔دوسرے یہ کہ ایک دفعہ آپ کو لیلۃ القدر بتائی گئی اور وہ اکیسویں رات کو ظاہر ہوئی باوجود اس کے آپ لوگوںسے یہی کہتے رہے کہ آخری عشرہ میں اس کی تلاش کرو۔حالانکہ اگر وہ ایک معین رات ہوتی تو اس کے بعد اسے ہمیشہ رمضان کی اکیسویں رات بتاتے رہتے۔پس معلوم ہوا کہ (۱) آپ قرآن کریم کے نزول کی رات کو لازماً ہمیشہ کے لئے لیلۃ القدر نہیں قرار دیتے تھے (۲)آپ اس کے سوا دوسری راتوں میں سے بھی کسی کو ہمیشہ کے لئے معین لیلۃ القدر نہیں قرار دیتے تھے بلکہ آپ کے نزدیک تو یہ رات قرآن کریم کے نزول کی یاد میں مقرر کی گئی تھی اور گو اس یادگار کو رمضان کے آخری عشرہ سے مخصوص کر دیا گیا تھا مگر نزول کی رات سے مخصوص نہیں کیا گیا تھا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گویہ رات نزول قرآن کی یاد میں ہے مگر قرآنی طریق کے مطابق اس سے مزید فائدہ بھی اٹھالیا گیا ہے۔کسی واقعہ کی یاد کے لئے کسی آس پاس کے دن کو مقرر کردیا جائے تو وہ دن وہی فائدہ دیتا ہے جو فائدہ نزول کے دن اس یاد گار کو منانا۔لیکن اگر ایک ہی رات ہمیشہ کے لئے مخصوص کر دی جائے تو عبادت کی وہ کثرت نہیں ہو سکتی جو غیرمخصوص صورت میں ہوسکتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یاد کو آخری عشرہ میں کسی رات میں مقرر کر کے یہ فائدہ مسلمانوں کے لئے پیدا کر دیا کہ بجائے ایک دن کے وہ دس دن جوش و خروش سے عبادت کریں۔اگر وہ ایک دن کو لیلۃ القدر مقرر کر دیتا تو کمزور آدمی صرف ایک رات عبادت کرکے خوش ہو جاتا لیکن اس صورت میں کم سے کم دس راتیں تو وہ عبادت میں لگا رہے گا کیونکہ اسے خیال ہوگا کہ شاید یہ رات لیلۃ القدر ہو یا شاید وہ ہو اور اس طرح ایک رات کی جگہ دس راتیں متواتر قرآن کریم کے نزول کی نسبت اور اس کی برکات کی نسبت سے غور کرنے کا موقعہ ملتا رہے گا اور ان راتوں میں سے ہر رات کو لیلۃ القدر کا خیال آتارہے گا اور لیلۃ القدر کا خیال آتے ہی قرآن کریم کے نزول اور اس کی برکات کی طرف اس کا ذہن چلا جائے گا اور یہ ایک بہت بڑی برکت اور روحانی فائدہ والی بات ہے۔آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کو مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ خدمت کے ایام کا آخری وقت ہی انعام کا وقت ہوتا ہے۔اس وقت تک میں نے یہ بتایا ہے کہ احادیث میں مذکورہ لیلۃ القدر بھی ایک جہت سے اسی لیلۃ القدر سے تعلق