تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 478

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور آپ کے شاگردوں کا خیال تھا کہ لیلۃالقدر سارے سال میں آسکتی ہے رمضان سے اس کی خصوصیت نہیں۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) ابی رزین کا قول ہے کہ لیلۃالقدر ہر رمضان کے مہینہ کی پہلی رات میں ہوتی ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) بعض نے کہا ہے کہ سترہ تاریخ کو لیلۃالقدر ہوتی ہے اور ابودائود نے ابن مسعود ؓ سے بھی ایک موقوف روایت اس بارہ میں نقل کی ہے اور کچھ صحابہ وتابعین اور امام شافعی سے بھی یہ روایت منقول ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) حسن بصری کا قول ہے کہ قرآن کریم لیلۃالقدر میں نازل ہوا تھا اور قرآن کریم میں لکھا ہے کہ بدر کا دن اور قرآن کریم کے نزول کا دن ایک ہی ہے اور بدر کادن سترہ رمضان جمعہ کے دن تھا اس لئے لیلۃالقدر بھی سترہ رمضان کوہونی چاہیے۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) بعض نے کہا ہے کہ انیس رمضان کو لیلۃالقدر ہوتی ہے اور یہ قول حضرت علیؓاور ابن مسعودؓسے روایت کیا جاتا ہے۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) بخاری اور مسلم نے ابو سعیدخدری سے روایت نقل کی ہے اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَشْـرَ الْاَوَّلَ مِنْ رَّمَضَانَ وَاعْتَکَفْنَا مَعَہٗ فَاَتَاہُ جِبْـرِیْلُ فَقَالَ الَّذِیْ تَطْلُبُ اَمَامَکَ فَاعْتَکَفَ الْعَشْـرَ الْاَوْسَطَ وَاعْتَکَفْنَا مَعَہٗ فَاَتَاہُ جِبْـرِیْلُ وَقَالَ الَّذِیْ تَطْلُبُ اَمَامَکَ ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطِیْبًا صَبِیْحَۃَ عِشْـرِیْنَ مِنْ رَّمَضَانَ فَقَالَ مَنِ اعْتَکَفَ مَعِیَ فَلْیَـرْجِعْ فَاِنِّیْ رَاَیْتُ لَیْلَۃَالْقَدْرِوَاِنِّیْ اُنْسِیْتُـھَا وَاِنَّـھَا فِی الْعَشْـرِ الْاَوَاخِرِ فِیْ وِتْرٍ وَّاِنِّیْ رَئَیْتُ کَاَنِّیْ اَسْـجُدُ فِیْ طِیْنٍ وَّمَاءٍ وَکَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِیْدًا مِّنَ النَّخْلِ وَمَا نَرٰی فِی السَّمَاءِ شَیْئًا فَـجَاءَتْ قَزَعَۃٌ فَـمُطِرْنَا فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی رَئَیْتُ اَثَرَ الطِّیْنِ وَالْمَاءِ عَلٰی جَبْـھَۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصْدِیْقُ رُؤْیَاہُ وَفِیْ لَفْظٍ فِیْ صُبْحِ اِحْدًی وَّعِشْـرِیْنَ وَ قَالَ الشَّافِعِیْ وَھٰذَا الْـحَدِیْثُ اَصَـحُّ الرَّوَایَاتِ۔(بخاری کتاب الاذان باب السجود علی الانف فی الطین) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اور ہم نے بھی رمضان کی پہلی دس تاریخوں میں اعتکاف کیا اس کے خاتمہ پر حضرت جبریل آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ جس چیز (لیلۃالقدر) کی آپ کو تلاش ہے وہ آگے ہے اس پر آپ نے اور ہم سب نے درمیانی دس دنوں کا اعتکاف کیا اس کے خاتمہ پر پھر حضرت جبریل نے ظاہر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس چیز کی آپ کوتلاش ہے وہ آگے ہے اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم