تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 474

کے لئے پاک رکھو اور جب ابراہیم نے بھی ہم سے دعا کی کہ میرے رب جس طرح تو نے اس مکان کو امن والا بنانے کا وعدہ کیا ہے میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو اس مکان کو امن دینے والا بھی بنا (اس طرح کہ یہ خود ہی پُر امن نہ ہو بلکہ دوسرے شہروں اور ملکوں کو بھی امن دینے والا ہو)اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یوم آخرۃ پر ایمان لانے والے ہوںان کے ایمان کو تازہ کرنے کے لئے اسی وادی غیر ذی زرع میں ہر قسم کے تازہ بتازہ پھل بھی مہیا کرتا رہ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری دعا قبول کی گئی مگر اس اصلاح کے ساتھ کہ جو کافر ہوں گے انہیں بھی ہم دنیوی انعامات سے محروم نہیں کریں گے ہاں بوجہ کفر کے انہیں اخروی عذاب ملے گا۔یہ عہد کیسا لطیف عہد ہے اسمٰعیل سے اللہ تعالیٰ نے ختنہ کے علاو ہ یہ عہد لیا کہ وہ اوراس کی اولاد خانہ کعبہ کی خدمت کرے اور خدائے واحد کی عبادت کے لئے ایک ایسی پاک عبادت گاہ تیار رکھے جس میں اللہ تعالیٰ کے بندے جمع ہو کر خدائے واحد کی تسبیح و تحمید کریں۔بنو اسمٰعیل کے لیے عرب کا ملک ملنے کا وعدہ ختنہ کا عہد تواسمٰعیل کے ساتھ بھی تھا مگر اس کے ساتھ کیا لطیف روحانی عہد بھی شامل کر دیا گیا اور اس کے جواب میں اپنی طرف سے عہد کا نشان یہ مقرر کیا کہ میں خانہ کعبہ اور اس کے گرد کا علاقہ ان کو دوں گا اور وہ ہمیشہ کے لئے امن میں رہے گا کوئی دشمن اسے فتح نہ کر سکے گا اور لوگ حج کے لئے سارے ملک سے (اور آخری زمانہ میں سب دنیا سے)وہاں آتے رہیں گے۔یہ عہد کا نشان جو اسمٰعیل ؑ اور اس کی نسل سے ہوا کیسا شاندار ہے۔اسحٰق سے صرف دنیوی وعدہ تھا کہ کنعان کا ملک اسے اور اس کی اولاد کو ملے گا جو محض ایک سیاسی وعدہ تھا اور پھر اس ملک کو امن میں رکھنے کاکوئی وعدہ نہ تھا۔چنانچہ کئی دفعہ یوروشلم اسرائیلی دین کے منکروں کے ہاتھو ں تباہ ہوا۔لیکن اسمٰعیل سے یہ وعدہ کیا کہ اسے اور اس کی اولاد کو مکہ اور اس کے گرد ونواح پر تلوار کے ذریعہ سے نہیں بلکہ محبت اور حسن عقیدت کے ذریعہ سے حکومت بخشی جائے گی اور خدا تعالیٰ ان کے مر کز کو ہمیشہ دشمن کے ہاتھ سے بچائے گا اور تمام علاقہ پر ان کی روحانی اور ظاہر ی حکومت ہوگی۔روحانی اس طرح کہ لوگ مکہ سے عقیدت رکھیں گے اور وہاں حج کے لئے آئیں گے اور ظاہری اس طرح کہ وہ ملک کے لئے مرکز امن بنا دیا جائے گا اور مکہ کے لوگوں کو سیاسی تصرف بھی اپنے گرد کے علاقہ پر دیا جائے گا۔ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اسمٰعیل کا عہد اسحٰق کے عہد سے کہیں زیادہ شاندار ہے۔اسحٰق اور اس کی اولاد نے جو عہد کا نشان اپنے لئے مقرر کر لیا وہ اسمٰعیل اور اس کی اولاد نے بھی اپنے لئے مقرر کیا یعنی ختنہ۔لیکن اس کے علاوہ یہ نشان بھی اپنے عہد کا خدا تعالیٰ کے حکم سے مقرر کیا کہ اسمٰعیل اور اس کی نسل خدا ئے واحد کی پرستش کو قائم رکھنے کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی اور دنیا سے الگ ہو کر وادی غیر ذی زرع میں ذکر الٰہی کی شمع کو جلائے رکھنے