تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 473

کروںگا اور اسے بہت بڑھائوں گا ‘‘ (پیدا ئش باب ۱۷آیت ۲۰) پھر پیدا ئش ب ۲۱ میں لکھا ہے ’’میں اس (اسمٰعیل ) کو ایک بڑی قوم بنائو ں گا‘‘ (پیدائش باب ۲۱آیت۱۸) ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ اسمٰعیل بھی وعدہ میں شامل تھا گو وہ اس وعدہ میں شامل نہ تھا جو کنعان کے قبضہ کے متعلق تھا کیونکہ وہ عہد اسحاق کی نسل کے ساتھ پورا ہونا تھا۔یہود ونصاریٰ کو یہ غلطی لگی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عہد صرف اسحاق کی اولاد سے تھا۔اوپر کی عبارتوں سے ظاہر ہے کہ عہد اسمٰعیل اور اسحاق دونوں سے تھا۔پھر یہ غلطی بنو اسرائیل کو کس طرح لگی ؟اس کا جواب یہ ہے کہ ابراہیمی عہد کی دو شکلیں ہیں ایک مجمل اور ایک مفصل۔مجمل عہد یہ تھا کہ میں تیری نسل کو برکت دوں گا اور نسل سے مراد اسمٰعیل اور اسحاق دونوں ہیں جیسا کہ اوپر کے حوالوں سے ظاہر ہے۔مفصل عہد آگے دو حصوں میں تقسیم ہے۔اسحاق کی نسبت عہد یہ تھا کہ کنعان کی حکومت اسے نسلاً بعد نسلٍ حاصل ہوگی۔بائبل نے جو بنو اسحاق کی کتاب ہے لازماً اسی عہد کو یاد رکھنا تھا اس کتاب میں بنو اسمٰعیل کے عہد کا ذکر نہ ہونے کے یہ معنے نہیں کہ بنو اسمٰعیل سے کوئی عہد تھا ہی نہیں۔کیونکہ بائبل مجمل عہد میں دونوں بیٹوں کو شریک کرتی ہے۔اسحاق کی نسبت بھی ہے کہ میں اسے برکت دوں گا اور اس برکت کی تشریح یوں کی ہے کہ کنعان کا ملک نسلاً بعد نسلٍ اسے ملے گااور اسمٰعیل کی نسبت بھی کہا ہے کہ میں اسے برکت دوں گا۔اب سوال یہ ہے کہ اسے کس رنگ میں برکت دی جائے گی ؟اس سوال کا جواب بائبل میں تلاش کرنا عبث ہے کیونکہ وہ تو اسرا ئیلی نسل کی تاریخ ہے اس کا جواب تو اسمٰعیلی نسل کی روایات سے معلوم کرنا چاہیے یا اسمٰعیلی نسل کے انبیاء کے الہام سے کیونکہ اسمٰعیل کی نسبت تفصیلی عہد انہی سے ہمیں معلوم ہو سکتا ہے۔سو ہم اسمٰعیل کی نسل کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں یہ روایت چلی آتی تھی کہ اسمٰعیل کو خدا تعالیٰ نے مکہ مکرمہ مرکز کے طور پر دیا اور عرب رہائش کے لئے دیا جس پر وہ اسمٰعیل کے وقت سے اس وقت تک قابض ہیں چنانچہ قرآن کریم میں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہوا جو حضرت اسمٰعیل کی اولاد میں سے تھے اس تفصیلی عہد کا یوں ذکر ہے وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۔وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ(البقرۃ :۱۲۶،۱۲۷) یعنی یاد کرو جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا مرجع بنایا اور امن کا موجب بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیمؑ جیسا خلوص اپنی نمازوں اور عبادتوں میں پیدا کرو اور ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں