تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 464

پھیر ی ہے اسی طرح اَنْزَلْنٰهُ کی ضمیر اَرَءَيْتَ کی تاء کی طرف اور عَبْدًا کی طرف بھی جا سکتی ہے۔پس اس آیت کے دوسرے معنے یہ بھی ہیں کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر میں اتارا ہے۔انبیاء کبار کے دنیا میں آنے کے اوقات جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں تمام انبیاء کبار اسی زمانہ میں نازل ہوتے ہیں جب دنیا میں تاریکی اور ظلمت کا دور دورہ ہوتا ہے اور ایسے وقت میں اگرخدا تعالیٰ کی طرف سے نبی نہ آئے تو یقیناً لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارہ میں شبہ پیدا ہوگا قرآن کریم بار بار اس دلیل کو پیش کرتا ہے کہ ضرورت کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوتا ہے۔چنانچہ سورۂ یٰسٓ میں آتا ہے وَ اٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ١ۖۚ اَحْيَيْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ (یٰسٓ:۳۴) یعنی تمہارے لئے مردہ زمین میں ایک نشان ہے خدا تعالیٰ اسے زندہ کرتا ہے اور پھر اس میں سے دانے نکالتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو۔یعنی جب بھی زمین مردہ ہو جاتی ہے ذخائر کو ختم ہونے سے بچانے کے لئے خدا تعالیٰ ہمیشہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے یعنی کیا کفار یہ خیال نہیں کرتے کہ جو خدا ان کی دنیوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے وہ ان کی روحانی ضرورتوں کو پورا نہ کرے گا اور بوقت ضرورت نبی نہ بھیجے گا۔سورۂ روم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٗ فِي السَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَ يَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠۔وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِيْنَ۔فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (الرّوم:۴۹ تا ۵۱) یعنی اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ان بادلوں کو جس طرح چاہتا ہے پھیلاتا ہے (یعنی ہر ملک کے لئے ہوائوں کے الگ الگ رخ مقرر ہیں جن کے مطابق بادل پھیل جاتے ہیں) پھر جب ان بادلوں کو اپنے جن بندوں تک چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ اچانک (بعد مایوسی کے) خوش ہوجاتے ہیں اور گووہ بہت عرصہ سے اس بارش کے نزول سے ناامید ہوچکے تھے۔پس تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کو دیکھ کس طرح وہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتا ہے یہی خدا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہاں تو مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے کیونکہ گمراہوں کو ہدایت بخشنا یا دینی علوم سے ناواقفوں کو علوم الٰہی کی خبر دینا بھی مردہ زندہ کرنا کہلاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ (الانفال:۲۵) یعنی اے مومنو! جب خدا اور اس کا رسول تم کو بلائیں تو ان کی بات مانا کرو کیونکہ تم مردہ ہووہ تم کو زندہ کرنے کے لئے