تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 459

زمانہ قرار دیا گیا ہے۔جب بھی کوئی شخص ہدایت اور ر اہنمائی حاصل کرنا چاہے اس کو اسی رات کی طرف نظر اٹھانی پڑتی ہے اور اسی رات کی برکتیں انسان کو ہدایت اور راستی پر لا سکتی ہیں اور کبھی بھی اس رات سے نکلی ہوئی ہدایت اور راستی کی راہیں مسدود نہیں ہوتیں۔وہ چلی آتی ہیں اور چلی جائیں گی او ر قیامت تک ان کا سلسلہ ممتد رہے گا۔تیسرے معنے تیسرے معنے اس آیت کے یہ تھے کہ قرآن کریم وقار کی رات میں اتارا گیا ہے۔وقار کے معنے بوجھ ،سمجھ اور عقل کے ہوتے ہیں۔پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ قرآن کریم ایک ایسی رات میں اتارا گیا ہے جو عقل اور سمجھ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بوجھل ہے یعنی جس کی تعلیمات دشمن کے حملہ اور اس کی تنقید سے اپنی جگہ سے ہل نہیں جاتیں۔یہ معنے بھی قرآن شریف پر پوری طرح چسپاں ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم اعلیٰ درجہ کی حکمتوں پر مبنی ہے اور ہر ایک حکم جو دیا جاتا ہے اس کی وجہ بھی بتائی جاتی ہے۔کیوں اس حکم پر عمل کرنا چاہیے،اس کے کیا فوائد ہیں ،اس کو چھوڑا جائے تو اس کے کیا نقصانات ہوں گے اور اس طرح وزنی دلائل سے اسے ثابت کیا جاتا ہے کہ کسی فلسفہ کی تنقید بھی اس کے دلائل کو رد نہیں کر سکتی۔جو کچھ وہ کہتا ہے وہ ایسی وزنی چیز ہوتی ہے کہ دشمن خواہ اس کو کتنا بھی دھکیلنے کی کوشش کرے آخر اسے شکست تسلیم کرنی پڑتی ہے۔چوتھے معنے چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کریم ایک ایسی رات میں نازل ہوا ہے جو غناء والی رات ہے۔غناء کے معنے عربی زبان میں ضرورت کے پورا ہونے اور سہولت کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ قرآن کریم اس رات میں نازل ہوا ہے یا اس تاریک زمانہ میں نازل ہوا ہے جو ضرورتوں کو پورا کرنے والا تھا۔یہ معنے بھی قرآن کریم پر صادق آتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر قسم کی روحانی اور دینی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ ( العنکبوت:۵۲) کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر یہ مکمل کتاب اتاری ہے جو سنائی جاتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ تَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ ہے (یونس :۳۸) یعنی شریعت کی تمام تفصیلات کو بیان کرتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے وَ تَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ(یوسف:۱۱۲) یعنی قرآن کریم تمام ضروری دینی امور کی تفصیل بیان کرتا ہے اور ہر قسم کے مومنوں کے لئے اس میں ہدایت اور رحمت ہے۔خود اسی آیت زیر تفسیر میں بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہے چنانچہ فرمایاتَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ہر قسم کی باتیں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ملائکہ۔۔۔۔۔لیلۃالقدر کی رات میں لے کر نازل ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم وہ کتاب ہے جو تمام دوسری مذہبی کتب سے انسان کو مستغنی بنا