تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 458

کے یہی معنے کرنے پڑیں گے کہ ہم نے قرآن کریم کو اس رات میں اتارا ہے جو قیمت میں باقی ساری راتوں کے برابر ہے یعنی یہ رات باقی تمام دنیا کی عمر کے برابر قیمت رکھتی ہے۔یہ معنے قرآن کریم پر چسپاں ہوتے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے۔قرآن کریم میں انسان کی ترقیات کے لئے سب تعلیمات آگئی ہیں اور قرآن کریم ہی روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ ہے پس جب قرآن کریم آخری تعلیم ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع نبی ہیں تو یہ ثابت ہوا کہ باقی تمام انبیاء اور باقی تمام کتب مقصود نہیں بلکہ صرف ذریعہ ہیں اور ذرائع خواہ کتنے بھی زیادہ ہوں وہ مقصود سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتے۔پس یہ کہناکہ ہم نے اس قرآن کریم کو برابر والی رات میں اتارا ہے درحقیقت اس کے یہی معنے ہیں کہ یہ قرآن آخری کتاب ہے اور یہ اکیلی ان تمام شریعتوں کے مقابلہ میں ہے جو اس وقت تک اتر چکی ہیں اور قرآن کریم کے نزول کا زمانہ اپنی برکات کے لحاظ سے ان تمام انبیاء کے زمانوں کے برابر ہے جو کبھی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے پس اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں درحقیقت قرآن کریم کے آخری اور سب سے مکمل کتاب ہونے کا دعویٰ بیان کیا گیا ہے اور ان چھوٹے سے الفاظ میں قرآن کریم کی ان ہزاروں خوبیوں کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس کے الفاظ میں مخفی رکھی ہیں۔اس مضمون کو اگر تفصیل سے بیان کیا جائے تو اس کے لئے کئی ہزار صفحات کی ایک مستقل کتاب چاہیے اس لئے میں تفصیل میں نہیں جاتا اسی قدر مضمون کا بیان کرنا کافی سمجھتا ہوں۔دوسرے معنے دوسرے معنے اس آیت کے لغت کے لحاظ سے یہ بتائے گئے تھے کہ قرآن کریم حرمت والی رات میں اترا ہے یعنی قرآن کریم کا نزول ایک ایسی رات میں ہوا ہے یا ایسے تاریک زمانہ میں ہوا ہے جس کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔جو چیز عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے وہ کبھی مٹائی نہیں جاتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ(الرّعد: ۱۸) جو چیز نفع رساں ہوتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے قائم رکھی جاتی ہے۔بیت اللہ کو بھی بیت الحرام کہا جاتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کے اعزاز کو ہمیشہ قائم رکھا جاتا ہے پس حرمت والی رات کے معنے یہ ہیں کہ جس کے حقوق کو ہمیشہ قائم رکھا جائے گا۔ان معنوں کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے بنتے ہیں کہ قرآن کریم اس زمانہ میں اترا ہے جو آخری زمانہ ہے اور جس زمانہ کو کوئی اور زمانہ بدلے گا نہیںاور ہمیشہ اس زمانہ کی عزت کو قائم اور اس کی حکومت کو استوار رکھا جائے گا۔یہ معنے بھی قرآن کریم پر چسپاں ہوتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کے نزول کا زمانہ ہمیشہ کے لئے دنیا کی راہنمائی کا