تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 457
دوسرے معنے قدر کے مفرادت راغب نے یہ کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اس رات میں اتارا ہے جسے اس نے اپنی خاص قدرتوں کے لئے مخصوص کر چھوڑا تھا۔یہ معنے بھی درست ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی خبریں پہلی کتب میں بکثرت موجود تھیں اور آپ کے زمانہ کے نشانات اور اس کی علامات نبیوں کے منہ سے خدا تعالیٰ بیان کروا چکا تھا۔عین اس بیان کے مطابق قرآن کریم نازل ہوا۔پس اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو اسی زمانہ میں اتارا ہے جس میں اس کے اترنے کی پہلے انبیاء خبر دے چکے ہیں۔پھر اس کے ماننے میں تم کو کیا تردّد ہو سکتا ہے۔جب زمانہ وہی ہے جس میں اس موعود نبی اور موعود شریعت نے آنا تھا۔اور یہ مدعی تمہارے نزدیک جھوٹا ہے اور اس کی کتاب خدا تعالیٰ پر نعوذ باللہ افتراء ہے تو پھر تم بتائو کہ سچاموعود اور سچی شریعت ہے کہاں؟اگر کہو کہ کہیں بھی نہیں تو پھر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے والے نہ ہو گے بلکہ ساتھ ہی اپنے نبیوں کا انکا رکرنے والے بھی بنو گے۔کیونکہ انہوں نے اس زمانہ میں ایک نبی اور ایک شریعت کے آنے کی خبر دی ہے۔اگر یہ جھوٹا ہے اور دوسرا کوئی سچا موعود موجود نہیں تو پھر تمہاری کتابیں بھی جھوٹی ہیں اور تمہارے انبیاء بھی جھوٹے ہیں۔لیلۃ القدر کے لغت کے لحاظ سے چھ معنی اقرب المواردنے قدر کے مندرجہ ذیل معنے کئے ہیں۔(۱)برابر کی چیز کہتے ہیں ھٰذَا قَدْرُ ھٰذَا۔یہ چیزاس کے برابر کی ہے (۲)حرمت (۳)وقار (۴)غناء (۵)قوت (۶)سہولت(اقرب)۔ان معنوں کے رو سے اس آیت کے معنے یوں بنیں گے۔۱۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتارا ہے جو قیمت میں برابر کی ہے۔۲۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتارا ہے جو حرمت والی ہے۔۳۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتارا ہے جو وقار والی رات ہے۔۴۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتارا ہے جو غناء والی رات ہے۔۵۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتارا ہے جو قوت والی رات ہے۔۶۔ہم نے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں اتاراہے جو سہولت والی رات ہے۔اب ہم ان چھٹوں معنوں کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آیا یہ قرآن کریم پر صادق آتے ہیں یا نہیں۔پہلے معنے پہلے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ برابر قیمت والی رات میں ہم نے قرآن کریم کو اتارا ہے چونکہ جس چیز کے وہ برابر ہے اس کا یہاں ذکر نہیں۔اس لئے ہم مقابل والی چیز کو محدود نہیں قرار دے سکتے اور ہمیں اس