تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 456
کتنی بری لگیں کتنی عجیب لگیں لیکن انسا ن کے اندر خدا تعالیٰ کو ملنے اور بنی نوع انسان سے نیکی کرنے کی خواہش مخفی طور پر رکھی گئی ہے۔پہلے لوگ تیرے دشمن ہوں گے، خدا تعالیٰ سے منہ موڑنے والے ہوں گے، بنی نوع انسان پر ظلم توڑنے والے ہوں گے۔لیکن آہستہ آہستہ ان کی اصلاح ہو تی جائے گی اور وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی صلح کر لیں گے اور بنی نوع انسان سے بھی ان کے تعلقات اچھے ہو جائیں گے۔پھر فرماتا ہے اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ہا ں ہاں پڑھ اپنے معزز ترین رب کی مدد سے یعنی ایسی تعلیم کے پیش کرنے پر ضرور مخالفت ہوتی ہے اور خصوصاً روحانی اور جسمانی لیڈر شرارت پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن خواہ دنیاوی لیڈر ہوں یا مذہبی ،تو ان کی پرواہ نہ کیجیئو کیونکہ ان سب معززوں سے زیادہ معزز خدا تعالیٰ کی ذات ہے وہ تیرے ساتھ ہو گی۔کیونکہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب انسان کو ارتقاء کی آخری منازل تک پہنچا دے اور آئندہ علوم زبان کی بجائے قلم کے ذریعہ سے سکھائے جائیں یعنی علوم کی حفاظت کے لئے قلم کا استعمال اب بڑھ جائے گا۔پھر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ اب ایسے مادی اور روحانی علوم دنیا کو سکھائے گا کہ اس سے پہلے انسان ان سے آگاہ نہ تھا۔غور کرو جو کچھ قرآن کریم میں نازل ہوا ہے سب انہی آیات کی تشریح ہے۔آخر قرآن کیا ہے؟خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان صحیح تعلقات کی تعلیم۔یہ دونوں باتیں اجمالاً ان آیات میں آگئی ہیں اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ آیات تو ایسی ہیںجیسے کہ ماں کے پیٹ میں نطفہ کی ابتدائی حالت ہوتی ہے۔ان آیات میں بتائی ہوئی تفسیر ترقی کرے گی اور بڑھتے بڑھتے جاندار بچہ اور پھر عالم و فاضل مرد کی طرح ہوجائے گی جو قلم سے کام لیتا ہے اور علوم و فنون کا مخزن ہوتا ہے۔خلاصہ یہ کہ ان آیات میں دو باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ قرآن کریم کی یہ آیات بڑھ کر ایک مکمل کتاب ہوجائیں گی اور دوسرے یہ کہ اس کتاب کی رو سے انسان علقہ کی حالت سے ترقی کر کے مرد کامل ہو جایا کریں گے قرآن کی تکمیل جسمانی قدرت کا ظہور ہے اور انسانوں کی روحانیت کی تکمیل روحانی قدرت کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ دونوں قدرتیںایسی نہیںکہ یک دم ظاہر ہوئی ہوںیا ہوتی ہوں۔قرآن کریم جب نازل ہوا تو آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور اب بھی جو اسے پڑھتے ہیں آہستہ آہستہ ہی پڑھتے ہیں۔نہ پہلے یک دم نازل ہوا نہ اب کوئی یک دم اس سے واقف ہوتا ہے۔اسی طرح روحانی ترقیات جو اسلام کے ذریعہ سے ملتی ہیں وہ بھی گو مبنی تو اسی پیغام پر ہیں جو پہلی رات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہوا مگر ایمان کے مطابق آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہیں اور اس طرح دوسری قسم کی قدرت کے روحانی ظہور کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔