تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 449

حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ اٹھارھویں رمضان کے مطابق حضرت عیسٰیؑ پر کلام نازل ہوا۔گویا ایک سو سے ڈیڑھ سو سال کا فرق ہے مگر یہ فرق اس طرح نکل جاتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے رو سے موسٰی اور عیسٰی کے درمیان کا فاصلہ تیرہ سو سال کا بھی ثابت ہے۔اگر اس عرصہ کو تسلیم کیا جائے اور قرائن بھی یہی بتاتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد ہوئے ہیں (مگر اس جگہ اس مضمون پر بحث کا موقعہ نہیں )۔تو حضرت ابراہیم اور حضرت مسیحؑ کا فاصلہ اٹھارہ صد اور کچھ سال کا بن جاتا ہے اور حدیث کے بتائے ہوئے وقت کے عین مطابق حضرت مسیح کی بعثت بنتی ہے۔اس کے بعد لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چوبیسویں رمضان کو کلام نازل ہوا۔حضرت عیسیٰ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا فاصلہ چھ سو آٹھ سال کا ہے۔اٹھارہ سو کچھ سال میں ۶۰۸ سال جمع کریں تو چوبیس سو کچھ سال ہوتے ہیں۔گویا حضرت ابراہیمؑ کے بعد چوبیسویں صدی کے ختم ہونے پر اور پچیسویں صدی کے شروع میں آپ مبعوث ہوئے اور یہ زمانہ حدیث کے عین مطابق ہے۔خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں رمضان سے مراد وہ تاریک زمانے ہیں جو نسل ابراہیم پر آنے والے تھے اور دنوں سے مراد وہ صدیاں ہیں جن میں حدیث میں مذکور انبیاء کا ظہور ہوا اور ان احادیث میں استعارہ کی زبان میں بات کی گئی ہے ظاہر مفہوم لینا ان کا نقل اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔لیلۃ القدر سے مراد اب سوال یہ ہے کہ لیلۃالقدر سے مراد اس آیت میں کیا ہے کیا حقیقی لَیْلَۃیا مجازی؟ اس بارہ میں پہلے مفسرین کا رحجان اسی طرف ہے کہ اس سے مراد حقیقی رات ہے جس میں ان کے نزدیک سارا قرآن لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر اترا۔یا یہ کہ اس رات کو نزول قرآن کی ابتداء ہوئی(فتح البیان زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ)۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ قران کریم رمضان میں اترنا شروع ہوا یہ تو تاریخی شہادتوں سے یقینی امر معلوم ہوتا ہے اس لئے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ کے ایک یہ معنے ضرور ہیں کہ قرآن کریم رمضان میں اترنا شروع ہوا۔باقی رہا کہ وہ کس رات کو اترا اس کے بارہ میں تاریخ میں اختلاف ہے۔سعید بن جبیر نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ قرآن کریم نصف رمضان میں نازل ہوا(تفسیرابن کثیر زیر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ)۔گویا پندرہ یا سولہ کو اس کا نزول ہوا۔جو روایات اوپر بیان کی گئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چوبیس رمضان کو نازل ہوا۔بعض کا خیال ہے کہ بدر کی جنگ ستر۱۷ہ رمضان کو ہوئی تھی (دُرّمنثور زیر سورۃ القدر) اس لئے یہی رات قرآن کریم کے نزول کی بھی ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک قرآن کریم کی آیت يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ(الانفال:۴۲) اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔غرض اس رات کے متعلق جسے لیلۃالقدر کہا گیا ہے اختلاف ہے