تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 447
ہیں یا چند پیشگوئیاں ان میں مذکور ہیں)۔ان روایتوں میں پانچ کتابوں کا ذکر معلوم ہوتا ہے کہ غلط العام عقیدہ سے متاثر ہوئے بغیر یہ روایات نقل کی گئی ہیں اس لئے غالب احتمال یہ ہے کہ یہ احادیث درست ہیں ہاں ظاہر معنوں میں نہیں ہیں بلکہ مجاز و استعارہ کا استعمال ان میں کیا گیا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت ابراہیمؑ ، حضرت موسٰی ، حضرت دائودؑ، حضرت مسیحؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیمی خاندان کے درخشندہ ستارے ہیں اور گو ابراہیم موسوی سلسلہ سے پہلے اور حضرت نوحؑ کے تابع نبیوں میں سے تھے۔موسٰی، دائود اور مسیحؑ اسرائیلی سلسلہ کے نبی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محمدی سلسلہ کے بانی تھے اور نبوت کے سلسلہ کے لحاظ سے یہ پانچوں نبی تین مختلف سلسلوں سے متعلق تھے مگر خاندان کے لحاظ سے یہ پانچوں نبی ایک خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔پس ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں کلام الٰہی کے سلسلہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ ابراہیمی خاندان کے لحاظ سے ایک حکمت بیان کی گئی ہو۔اگر یہ درست ہے تو نہ حضرت نوحؑ کے ذکر کی اس حدیث میں ضرورت تھی اور نہ دوسری اقوام کے نبیوں کے ذکر کی ضرورت تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پانچ نبیوں کو رمضان میں الہام ہوا خواہ جُزْأً خواہ کُلًّا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں اس خیال کو اوپر تفصیل سے ردّ کر آیا ہوں۔پس رمضان سے رمضان کا مہینہ مراد نہیں بلکہ مجازاً سلسلہء الہام کا نام رمضان رکھ دیا گیا ہے۔رمضان رَمَضَ سے نکلا ہے اور رَمَضَ کے معنے عربی زبان میں شدید گرمی یا سورج کی شدید تپش کے ہوتے ہیں اور رَمَضَاءُ کے معنے اس میدان کے ہوتے ہیں جو گرمی کے موسم میں سورج کی براہ راست شعاعوں کی وجہ سے تپ اٹھا ہو۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ؎ اَلْمُسْتَجِیْـرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ کُرْبَتِہٖ کَالْمُسْتَجِیْـرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ (اقرب) یعنی عمرو (اس کا مخالف) سے مصیبت کے وقت مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ شدید گرم میدان سے بچنے کے لئے کوئی آگ کی پناہ ڈھونڈے یعنی رَمَضَاء کی گرمی آگ کے قریب قریب ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ جب رمضان نام اس مہینہ کا رکھا گیا ہے اس وقت یہ مہینہ سخت گرمی کے موسم میں آیا ہوگا۔بہرحال رمضان کے روزے تو اسلام میں فرض ہوئے اور اس مہینہ کا نام رمضان بہت پہلے رکھا گیا ہے۔پس رکھنے والے نے یہ نام شدت گرما کی وجہ سے ہی رکھا ہوگا اور کلام الٰہی ہمیشہ اسی وقت آتا ہے جبکہ دنیا میں گناہ اور فسق وفجور کی وجہ سے لوگ غضب الٰہی کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیمی نسل