تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 446

منشاء نہیں کہ قرآن کسی ایک رات میں سب کا سب اتار دیا گیا تھا یا یہ کہ الٰہی کلام اکٹھا اترا کرتا ہے۔کلام الٰہی کسی نبی پر یک دم نہیں اترا بلکہ آہستہ آہستہ نبوت کے زمانہ سے اس کی موت تک اترتا رہتا ہے تا نبی کے دل کو بھی زیادہ سے زیادہ روشنی ملتی جائے اور اس کے اتباع کا نور ایمان بھی بڑھتا رہے اور اس کے منکروں پر بھی نت نئی حجت تمام ہوتی رہے۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اکٹھا کلام نازل نہیں ہوتا تو پھر کیا احادیث مذکورہ بالا کا یہ دعویٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اجمالاً اور پہلے انبیاء پر تفصیلاً کلام الٰہی رمضان کی مختلف راتوں میں نازل ہوا درست نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ احادیث صحاح ستہ کی نہیں۔مسند احمد بن حنبل، سعید بن جبیر اور ابن مردویہ کی ہیں اور ان کو وہ درجہ نہیں دیا جاسکتا جو بخاری مسلم کی احادیث کو دیا جاسکتا ہے۔مسند احمد بن حنبل بے شک ایک مستند کتاب ہے لیکن اس کے متعلق یہ امر محقق ہے کہ اس کی روایات مختلف قسم کی ہیں اور اس کے ان راویوں کی وجہ سے جو امام احمد بن حنبل کے بعد اس کی کتاب کو نقل کرتے ہیں اس میں ایسی بہت سی روایات شامل ہوگئی ہیں جو خود امام احمد بن حنبل کی بتائی ہوئی نہیں ہیں اور بعض ایسی بھی ہیں جن کو امام احمد بن حنبل نے خود مستند قرار نہیں دیا۔لیکن اگر امام احمد بن حنبل کے نزدیک یہ حدیث مستند بھی ہو تب بھی حدیث قرآن کریم کے مقام پر رکھی نہیں جاسکتی۔جو حدیث قرآن کریم، واقعات یا عقل کے خلاف ہو بہرحال یا اسے غلط قرار دینا پڑے گا یا پھر اس کے معنے مجاز کے اصول پر کرنے ہوں گے۔چونکہ میں اوپر ثابت کرچکا ہوں کہ ان احادیث کے ظاہری معنے قرآن کریم، کتب سابقہ اور عقل کے خلاف ہیں۔اس لئے لازماً یا تو ان احادیث کو غلط کہنا ہوگا یا ان کے معنے مجاز و استعارہ کے اصول پر کرنے پڑیں گے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ کیا مجاز و استعارہ کے رُو سے ان احادیث کے کوئی معنے ہوسکتے ہیں؟ میرے نزدیک ایک بات ان روایتوں میں ایسی ہے جو ہماری توجہ کو مجاز و استعارہ کی طرف پھیرتی ہے اور وہ یہ کہ باوجود اس کے کہ نوح علیہ السلام کو قرآن کریم نے ایک بہت بڑا نبی قرار دیا ہے اور حضرت ابراہیمؑ کو ان کا تابع نبی قر ار دیا ہے اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے ہر قوم میں نبی ہونے کی خبر دی ہے۔اس روایت میں حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسٰی، حضرت دائودؑ، حضرت مسیحؑ اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے اور پھر باوجود اس کے کہ مسلمانوں میں عام طور پر گو غلط طور پر یہ عقیدہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار کتابیں اتاری ہیں (درحقیقت نہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف چار کتابیں اتاری ہیں اور نہ یہ درست ہے کہ ان چار کتابوں میں سے دائودؑ اور حضرت مسیحؑ کی کتب شریعت کی کتب ہیں۔یقیناً چار سے بہت زیادہ کتب مختلف اقوام کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہیں اور ان بہت سی کتب میں زبور اور انجیل شامل نہیں کیونکہ یہ شریعت کی کتب نہیں ہیں۔محض اصلاحی اور روحانی ترقی کے متعلق الہامات پر مشتمل