تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 432

کے وقت تک اندازاً سو سال کا عرصہ اس واقعہ پر گذر چکا تھا اس لئے جب وہ میری بیعت کے لئے آئے اس وقت وہ ایک سو بیس سال کے تھے اور مجھے دوستوں نے بتایا کہ اس کے بعد بھی وہ پندرہ بیس سال زندہ رہے تھے گویا ایک سو چالیس سال سے اوپر عمر انہوں نے پائی اور ایک سو بیس سال کی عمر میں وہ اتنے مضبوط تھے کہ لاہور سے پیدل چل کر قادیان آئے۔اب اگر وہ ساری عمر دین کی طرف متوجہ رہے ہوں اور انہوںنے ایک سو بیس سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو تب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ ایک گھڑی کی عبادت ان کی ایک سو بیس سالہ عبادت سے بڑھ گئی اور خدا تعالیٰ کے فعل نے بھی نتیجہ ظاہر کر دیا کیونکہ جو سلوک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا ہے وہ ان سے نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ تو کسی کی نیکی ضائع نہیںکرتا وہ خود فرماتا ہے فَمَنْْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (الزلزال :۸) جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرتا ہے وہ اس کے اچھے نتیجہ کو ضرور دیکھ لیتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کی ایک ذرہ کے برابر نیکی بھی ضائع نہیں کرتا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی ایک سو بیس سال کی عبادت کو ضائع کر دے اور یہ کہنا کہ سوزو گداز اور اخلاص کی وجہ سے بعض دفعہ ایک رات کی عبادت تراسی۸۳ سال کی عبادت سے بڑھ جاتی ہے۔یہ جواب بھی اس موقعہ پر چسپاں نہیں ہو سکتا کیونکہ روایت میںہے کہ پہلے نبیوں نے اسّی سال عبادت کی تھی جس کی خبر سن کر صحابہ کو افسوس ہوا کہ ہم اس کے مقابل پر کیا پیش کریں گے۔اگر یہ روایت اس جگہ چسپاں کی جائے تو پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ نبیوں کی اسّی سالہ عبادت سے غیر نبی کی ایک رات کی عبادت بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس میںزیادہ سوز و گداز ہوتا ہے اور یہ دعویٰ بالبداہت باطل ہے۔بغرض محال یہ درست بھی ہو تو پھر اس مضمون کو ان الفاظ میںبیان کرنا تو بلاغت کے خلاف ہے اس صورت میں تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کے دل اس قدر پاک ہیںکہ ان کے ایک لمحہ کی عبادت یا ان کی ایک رات کی عبادت ان لوگوں کی اسّی سال کی عبادت سے بہتر ہے مگر اس کی بجائے فرمایا یہ گیا ہے کہ ایک خاص رات کی عبادت دوسرے اسّی۸۰ سال کی عبادت سے اچھی ہے اور یہ بات یقیناً اس یہودی روایت کا جواب نہیں ہو سکتی۔کیونکہ صرف ایک رات کو بغیر اور کسی خصوصیت کے دوسرے سالوں پر ترجیح دے دینا عقل کے خلاف ہے اور صرف زبردستی اور دھینگا مشتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ایک معمولی مومن اور متقی انسان اگر ایک رات عبادت میںگزار دے تو وہ پہلے انبیاء کی اسّی سالہ عبادتوں سے بھی بڑھ جاتاہے تو اس سے بڑھ کر ظلم اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان انبیاء کو اسّی سال عبادت کرنے کے بعد بھی اتنا انعام نہ ملے جتنا انعام ایک معمولی مسلمان کو محض ایک رات عبادت