تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 430

دیا ہے اور مفسرین خود بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر نہ معلوم ان کو کیا خیال آگیا کہ صحابہ ؓ کی اس قطعی رائے کے باوجود انہوں نے اسے مدنی قراردے دیا۔مستشرقین جن میں سے بعض تو دیانتدارانہ طورپر حقیقت کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض پادری یا پادری نما جان بوجھ کر یا تعصب سے واقعات کو بدل دیتے ہیں۔انہوں نے بھی اسے مکی ہی قرار دیا ہے۔نولڈ کے مشہور مستشرق بھی اسے سورۂ ضُـحیٰ کے معاً بعد کی قرار دیتاہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry Vol:iv Page 263) بعض احادیث میں اس کے نزول کی عجیب وجہ بیان کی گئی ہے۔لکھا ہے کہ چار نبیوں کے متعلق یہود میںیہ خیال تھاکہ انہوں نے اسّی ۸۰ سال بلا ناغہ بغیر گناہ کے ارتکاب کے خدا تعالیٰ کی عبادت کی ہے اور وہ چار نبی یہ ہیں ایوب، زکریا، حزقیل، یوشع، جب یہودیوں کا یہ قول صحابہ ؓ نے سنا تو ان کو رشک پیدا ہوا کہ چار آدمی ایسے گذرے ہیں جنہوں نے اسّی سال تک بغیر کسی غلطی کے ارتکاب کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہے اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی کہ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ یعنی تم تو اسّی سال کی عبادت پر رشک کرتے ہو اور اسلام کی یہ کیفیت ہے کہ اگر کسی کو لیلۃ القدر میںاللہ تعالیٰ کی عبادت نصیب ہو جائے تو اس ایک رات کی عبادت ہی ہزار مہینوں یعنی ترا۸۳سی سال کی عبادت سے بڑھ جاتی ہے۔مگر میرے نزدیک یہ روایت قابلِ قبول نہیں اوراسے تسلیم کرنا عقلی طور پر ناممکن ہے کیونکہ اگر واقعہ میںکسی کو اسّی ۸۰ سال عبادت کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو اس پر کسی شخص کو محض ایک رات میں عبادت کرنے کی وجہ سے کس طرح فضیلت دی جا سکتی ہے۔اگر کہو کہ ایک رات کی عبادت اتنے سوزو گداز سے لبریز ہو گی ، اتنی محبت اور اللہ تعالیٰ کے اتنے عشق کو ظاہر کرنے والی ہو گی کہ باوجود ایک رات کی عبادت ہونے کے اپنی شان اور عظمت میں اسّی سال کی عبادتوں سے بڑھ جائے گی تو یہ کوئی ایسی بات نہیںتھی جسے خاص طورپر بیان کیا جاتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ایک رات کا بھی سوال نہیں اگر ایک گھنٹہ میں بھی کوئی شخص اپنے اخلاص اور اپنی محبت کا کوئی ایسا ثبوت دے دیتا ہے جو دوسرے کی اسّی ۸۰سالہ زندگی میں بھی نہیں ملتا تو یقیناً اس کے ایک گھنٹے کا اخلاص دوسرے کی اسّی ۸۰ سالہ کوششوں کے نتائج سے بڑھ جائے گا بلکہ میں کہتا ہوں ایک گھنٹے کا بھی سوال نہیں اگر کسی پر ایک منٹ بھی ایسا آجائے تو اس کا وہ ایک منٹ دوسرے شخص کی اسّی۸۰ یا سو۱۰۰ سالہ عبادت سے بڑھ جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السّلام پر ایک وقت آیا جبکہ اسّی سال کی عمر کے بعد ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور پھر جیسا کہ بائبل اور قرآن کریم دونوں سے ثابت ہے جب وہ بڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ اپنے اس بیٹے کو خدا کی راہ میں ذبح کر دو۔( الصّٰفّٰت: ۱۰۳۔پیدائش باب ۲۲ آیت ۱تا۱۴)