تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 429

سُوْرَۃُ الْقَدْرِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ القدر۔یہ سورۃ مکّی ہے۔وَھِیَ خَـمْسُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْہَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اوراس کی بسم اللہ کے سوا پانچ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ القدر مکی ہے سورۃالقدر مکی سورۃ ہے (فتح البیان زیر سورۃ القدر) لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ مدنی ہے چنانچہ واحدی کا قول ہے کہ ھِیَ اَوَّلُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ بِالْمَدِیْنَۃِ یہ پہلی سورۃ ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی (روح المعانی زیر سورۃ القدر)۔مفسرین کے نزدیک لفظ جمہور کا خلاف اصول استعمال اس سورۃ پر بحث کرتے ہوئے مفسرین نے جمہور کی عجیب تعریف کی ہے بعض کہتے ہیں عِنْدَالْـجُمْھُوْرِ مَکِّیَّۃٌ اور بعض کہتے ہیں عِنْدَالْـجُمْھُوْرِ مَدَنِیَّۃٌ۔معلوم نہیں وہ کون سے جمہور ہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی بھی ہے اور جمہور کے نزدیک یہ مدنی بھی ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ مفسرین یہ تو کہتے ہیںکہ جمہور کے نزدیک یہ سورۃ مدنی ہے مگر کسی صحابی کانام نہیں لیتے کہ فلاں فلاں نے اس سورۃ کو مدنی قرار دیا ہے آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ہی تھے جو اس کو مکی یا مدنی قرار دے سکتے تھے پس جب ان کے نزدیک جمہور نے اسے مدنی قرار دیا ہے تو چاہیے تھا کہ وہ کچھ صحابہ کا ذکر کرتے اور کہتے کہ فلاں فلاں صحابی نے اسے مدنی قرار دیا ہے مگر باوجود یہ لکھنے کے کہ عِنْدَالْـجُمْھُوْرِمَدَنِیَّۃٌ پھر اس قسم کی روایتوں کا بھی تفاسیر میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک یہ مکی ہے(فتح البیان زیر سورۃ القدر)۔جب صحابہؓ اسے مکی قرار دیتے ہیں تو پھر یہ لکھنے کے کیا معنے ہوئے کہ عِنْدَ الْـجُمْھُوْرِمَدَنِیَّۃٌ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جمہور کا محاورہ جو ہماری کتب میں استعمال کیا جاتاہے کیسا خلاف ِ اصول ہے کہ ہر لکھنے والا جب اپنی رائے کے مطابق دو چار لوگوں کی آراء دیکھ لیتا ہے تو فوراً کہنا شروع کر دیتا ہے کہ جمہور کے نزدیک فلاں بات یوں ہے حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ ہر صحابی اس امر کا ذکر نہیں کیا کرتا کہ فلاں سورۃ مکی ہے یا مدنی۔صرف چند صحابہ ایسے امور کا ذکر کیا کرتے ہیں اور جب انہوں نے کھلے لفظوں میں اسے مکی قرار