تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 428
کھڑے ہوجاتے ہیں۔اسی طرح نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، حج بھی کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں، قرآن بھی پڑھتے ہیں، کلمۂ طیبہ پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اسلام کے ہر حکم پر بدل و جان عمل کرنا جزو ایمان سمجھتے ہیں۔مگر ہمیں تو گالیاں دی جاتی ہیں اور پہلے لوگوں کی تعریفیں کی جاتی ہیں حالانکہ ان کا کام ہمارے کام کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔غرض جس قسم کی قربانی پر پہلے تعریفیں ہوتی تھیں اسی قسم کی قربانی پر آج ہمیں ماریں پڑتی ہیں۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے سجدے اور بعدمیں آنے والے مسلمانوں کے سجدے میں فرق ہے۔بعد میں سجدہ کرنے والے وہ تھے جن کی چاروں طرف سے تعریفیں ہوتی تھیں اور کہا جاتا کہ دیکھو فلاں شخص کتنا بزرگ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتنے سوز و گداز کے ساتھ عبادت کرتا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سجدہ کی کیا قیمت تھی۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتا ہے جس کا تاریخ میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں پڑے ہوئے تھے کہ کفار مکہ اونٹ کی ایک بڑی سی اوجھری اٹھالائے اور آپ کے سر پر پھینک کر ہنسنے لگ گئے۔اس کا بوجھ اس قدر زیادہ تھا کہ آپ سجدہ میں سے اپنا سر نہ اٹھاسکتے تھے۔آخر حضرت فاطمہؓ کو کسی طرح اس بات کا علم ہوگیا وہ اس وقت چھوٹی بچی تھیں دوڑتی ہوئی آئیں اور انہوں نے وہ غلاظت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر سے دور کی(السیرۃ الحلبیۃ باب استخفائه صلى الله عليه وسلم وأصحابه في دار الأرقـم بن أبي الأرقـم )۔یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں جو قدر و قیمت رکھتا ہے وہ دوسرے سجدے کہاں رکھ سکتے ہیں۔ایسا ایک سجدہ بھی خدا تعالیٰ کے قرب کی انتہائی منازل انسان کو اک آن میں طے کرادیتا ہے جبکہ امن کے زمانہ کے ہزاروں ہزار سجدے بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازہ تک نہیں پہنچاتے۔پس فرمایا لَا تُطِعْهُ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی! تو ان لوگوں کی بات مت مان۔یہ تجھے عبادت سے جتنا زیادہ روکیں تو اتنے ہی زور کے ساتھ ہمارے حضور سجدہ میں گر جا کیونکہ اس روک کے باوجود تیری طرف سے جو سجدہ ہوگا وہ تجھے سیدھا اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے گا۔