تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 427
بےشک اپنی مجلس کے آدمیوں کو بلالیں ہم بھی اپنی پولیس کے آدمیوں کو بلائیں گے اور ان سے چوروں اور ڈاکوئوں والا سلوک کریں گے۔كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْؒؑ۰۰۲۰ یوں نہیں (ہوگا جس طرح دشمن چاہتا ہے) (ا ے نبی اور اس کے متبع) تو اس (کافر) کی اطاعت نہ کر اور اپنے رب کے حضور میں (ضرور) سجدہ کر اور اس سجدہ کے نتیجہ میں اپنے رب کے قریب تر ہوجا۔تفسیر۔كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ۔یعنی خبردار جس طرح تو خیال کرتا ہے اس طرح نہیں ہوگا۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوماننے والے تو دشمن کی بات نہ مانیو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کبھی نہ رکیو بلکہ وَ اسْجُدْ یہ لوگ تجھے جتنا زیادہ روکیں تو اتنے ہی زیادہ زور کے ساتھ ہمارے حضور سجدہ میں گرجا۔نتیجہ کیا ہوگا تو سجدہ میں جائے گا تو یہ تجھے ماریں گے مگر اس کے نتیجہ میں تو خدا تعالیٰ کے اور بھی زیادہ قریب ہوجائے گا۔ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جو امن کی حالت میں کیا جاتا ہے اور ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جو لڑائی اور بدامنی کی حالت میں کیاجاتا ہے۔وہ سجدہ جو ایسی حالت میں کیا جائے جب انسان کو عبادت سے روکا جاتا ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہونے کی وجہ سے قسم قسم کے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہو وہ سجدہ انسان کو آناً فاناً کہیں کاکہیں پہنچادیتا ہے۔ایک سجدہ وہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے گھر میں اطمینان سے بیٹھا ہوتا ہے، اٹھتا ہے وضو کرتا ہے اور مصلّے پر کھڑا ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گرجاتاہے۔لیکن ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جب محض سجدہ کی وجہ سے انسان کومارا اور پیٹا جاتا ہے یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حضور جو قدر و قیمت رکھتا ہے وہ سجدہ نہیں رکھتا جو امن کی حالت میں کیا جاتا ہے۔آج سے سوسال پہلے بھی اسلام کی تبلیغ کرنے والے مسلمان دنیا میں موجود تھے۔آج سے سو سال پہلے بھی اسلام کے لئے روپیہ خرچ کرنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔آج سے سو سال پہلے بھی اسلام کے ہمدرد دنیا میں موجود تھے مگر ان کی تو تعریف کی جاتی تھی اور ہماری مذمت کی جاتی ہے۔ان کے متعلق تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ لوگ اسلام کے بڑے ہمدرد ہیں۔مگر ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے بہت بڑے دشمن ہیں حالانکہ ہمارا جرم کیا ہے؟ ہماری جماعت کے لوگ وہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر روپیہ بھجواتے ہیں۔خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے آٹھ آٹھ دس دس سال تک ممالک غیر میں اپنے بیوی بچوں سے جدا رہتے ہیں۔جہاں بھی اسلام ااور کفر کا ٹکرائو ہو وہاں ایک بہادر پہلوان کی طرح پہنچ کر کفر کے مقابلہ میں اپنا سینہ تان کر