تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 426

نے یہ باتیں سنی تو کہا یہ تو ٹھیک ہے کہ ہماری رسوائی ہوئی لیکن سوا ل یہ ہے کہ آخرایسا کس کی کرتوتوں سے ہوا؟ ہمارے باپ بھائی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا کرتے تھے اس وقت یہ غلام آپ پر اپنی جانیں فدا کیا کرتے تھے۔آج چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہے اس لئے تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان کو ماننے والے کن لوگوں کو عزت دیں گے آیا تم کو جو مارا کرتے تھے یا ان غلا موں کو جو اپنی جانیں اسلام کے لئے قربان کیا کرتے تھے۔اگر انہی کو عزت ملنی چاہیے تو پھر تمہیں آج کے سلوک پر شکوہ کیوں پیدا ہوا؟ تمہارے اپنے باپ دادا کے اعمال کا یہ نتیجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو رہا جو غلاموں کے ساتھ ہو رہا ہے۔یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور کہنے لگے ہم حقیقت تو سمجھ گئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رسوائی کا کوئی علاج نہیں؟ بے شک ہمارے باپ دادا سے بڑا قصور ہوا مگر آخر اس قصور کا کوئی علاج بھی ہوناچاہیے جس سے یہ ذلت کا داغ ہماری پیشانی پر سے دُھل سکے۔اس پر سب نے فیصلہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیںآتی۔چلو حضرت عمرؓ سے ہی پوچھیں کہ اس رسوائی کا کیا علاج ہے؟ جب وہ دوبارہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اس قت تک مجلس برخاست ہوچکی تھی اور صحابہؓ سب جاچکے تھے۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آج ہمیں اس مجلس میں آکر جو دکھ پہنچا ہے اس کے متعلق ہم آپ سے مشورہ کرنے آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا دیکھو برا نہ منانا۔یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہمیشہ آگے بیٹھا کرتے تھے اس لئے میں بھی مجبور تھا کہ انہیں آگے بٹھاتا۔بے شک تمہیں میرے اس فعل سے تکلیف ہوئی ہوگی مگر میں مجبور تھا۔انہوں نے کہا ہم آپ کی اس مجبوری کو سمجھتے ہیں ہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلت کا کوئی علاج ہے؟ اور کیا کوئی پانی ایسا ہے جس سے یہ داغ دھویا جاسکے؟ حضرت عمرؓ جو ان نوجوانوں کے باپ دادا کی شان و شوکت اور ان کے رعب اور دبدبہ کو دیکھ چکے تھے جب انہوں نے یہ بات سنی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈباآئے کہ یہ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے کہاں سے کہاں آگرے ہیں اور آپ پر رقت اس قدر غالب آئی کہ آپ ان کی بات کا جواب تک نہ دے سکے صرف ہاتھ اٹھا کر شام کی طرف جہاں ان دنوں قیصر کی فوجوں سے لڑائی ہورہی تھی اشارہ کردیا۔مطلب یہ تھا کہ اب ذلت کا یہ داغ اسی طرح دُھل سکتاہے کہ اس لڑائی میں شامل ہوکر اپنی جان دے دو۔چنانچہ وہ اسی وقت باہر نکلے اپنے اونٹوں پر سوار ہوئے اور شام کی طرف روانہ ہوگئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا۔اس طرح انہوں نے اپنے خون کے ساتھ اس ذلت کے داغ کو مٹایا جو ان کی پیشانی پر اپنے باپ دادا کے افعال کی وجہ سے لگ گیا تھا۔(مناقب امیرالمؤمنین عمر بن الـخطاب لابن جوزی صفحہ ۹۸) پس فرماتا ہے وہ