تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 425
کا مقابلہ کرنے کی اس میں طاقت نہیں رہتی۔اسی طر ح تم آج ایک ایک دو دو مسلمانوں کو پکڑتے اور ان کو مصائب وآلام میں مبتلا رکھتے ہو اور خیال کرتے ہوکہ ہمارا ان لوگوں نے کیا بگاڑ لینا ہے۔ہم طاقتور ہیں اور یہ کمزور۔ہم جتھے والے اور یہ انگلیوں پر گنے جانے والے چند افراد۔لیکن تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ یہ کمزور اور اکیلے نظر آنے والے ہماری پولیس کے آدمی ہیں۔جب تمہارے مظا لم کا انتقام لینے کے لئے ہماری گارد آئی تو اس وقت دنیا دیکھے گی کہ تمہاراکیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے۔جب ہماری گارد آئی تواس وقت تم میں سے کسی ایک میں بھی یہ طاقت نہیں ہوگی کہ اپنی انگلی تک مقابلہ میں اٹھاسکے۔چنانچہ دیکھ لو مکہ کے کتنے بڑے بڑے سردار تھے مگر مسلمانوں کی شوکت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسا ذلیل کردیا۔حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک دفعہ مکہ میں آئے تو وہی غلام جن کو سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر لوگ گھسیٹا کرتے تھے ایک ایک کر کے حضرت عمرؓ کی ملاقات کے لئے آنے شروع ہوئے۔وہ عید کا دن تھا اور ان غلاموں کے آنے سے پہلے مکہ کے بڑے بڑے رئوساء کے بیٹے آپ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہو چکے تھے۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ بلال ؓآئے۔وہی بلال جو غلام رہ چکے تھے جن کو لوگ مارا پیٹا کرتے تھے جن کو کھردرے اور نوکیلے پتھروں پر ننگے جسم سے گھسیٹا کرتے تھے جن کے سینہ پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ کر کہا کرتے تھے کہ کہو میں لات اور عزیٰ کی پرستش کروں گا مگر وہ یہی کہتے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔حضرت عمرؓ نے جب بلال کو دیکھا تو ان رئوساء سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائو اور بلال کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک اور غلام صحابی آگئے۔حضرت عمرؓ نے پھر ان رئوساء سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائو اور ان کو بیٹھنے دو۔تھوڑی دیر گذری تو ایک اور غلام صحابی آگئے۔حضرت عمرؓ نے حسب معمول ان رئوساء سے پھر فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائواوران کو بیٹھنے کی جگہ دو۔اتفاق کی بات ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کرنا تھا اس لئے یکے بعد دیگرے آٹھ دس غلام آگئے اور ہر دفعہ حضرت عمرؓ ان رئوساء سے یہی کہتے چلے گئے کہ پیچھے ہٹ جائواور ان کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ان دنوں بڑے بڑے ہال نہیں بنائے جاتے تھے بلکہ معمولی کوٹھڑیاں ہوتی تھیںجن میں زیادہ آدمی نہیں بیٹھ سکتے تھے۔جب تمام غلام صحابہ ؓ کمرے میں بھر گئے تو مجبوراً ان رئوسا کو جوتیوں والی جگہ میں بیٹھنا پڑا۔یہ ذلت ان کے لئے نا قابل برداشت ہو گئی وہ اسی وقت اٹھے اور باہر آکر ایک دوسرے سے کہنے لگے دیکھا آج ہمیں کیسا ذلیل کیا گیا ہے یہ غلام جو ہماری خدمتیں کیاکرتے تھے ان کو تو اوپر بٹھایا گیا ہے مگر ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا یہاں تک کہ ہٹتے ہٹتے ہم جوتیوں والی جگہ پر جا پہنچے اور سب لوگوں کی نگاہ میں ذلیل اور رسوا ہوئے۔ایک شخص جو ان میںسے زیادہ سمجھدار تھا جب اس