تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 424

مختلف امور کے متعلق باہم مشورہ کرتے ہیں (اقرب) جس طرح مائدہ اس دستر خوان کو کہا جاتا ہے جس پر کھانا چنا ہوا ہو۔اسی طرح اَلنَّادِی مجلس کو کہا جاتا ہے مگر اس مجلس کو جس میں آدمی بیٹھے ہوئے ہوں خالی کمرہ کو نہیں کہتے۔(اقرب) تفسیر۔کفار مکہ آپس میں کہا کرتے تھے آج بڑا مشورہ ہوا۔آج محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر دیا گیا ہے آج ان کو مارنے پیٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آج ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔فرماتا ہے لوگ جس مجلس کے حوالے دیا کریں گے اور کہیں گے کہ آج یہ فیصلہ ہوا۔کل وہ فیصلہ ہوا۔ہم اسی مجلس کے متعلق اس دن کفار سے کہیں گے کہ اب کیوں کسی کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلاتے۔جائو اور اپنے اُن ساتھیوں کو بلائو جن کے ساتھ مل کر تم مسلمانوں کے خلاف دن رات منصوبے کیا کرتے تھے اور دیکھو کہ اس موقعہ پر وہ تمہارے کام آتے ہیں یا نہیںتم نے مسلمانوں کے خلاف تو منصوبے کر لئے اب تم ہماری گرفت میں آچکے ہو۔اگر تم میں طاقت ہے تو اب اپنے مشیروں کو بلائو اور ان سے کہو کہ وہ تمہاری مدد کریں۔سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ۰۰۱۹ ہم بھی اپنی پولیس کو بلائیں گے۔حلّ لُغات۔اَلزَّبَانِیَۃ اَلزَّبَانِیَۃ : زَبَنَ سے ہے اور زَبَنَہٗ (یَزْبَنُ زَبَنًا) کے معنے ہوتے ہیں دَفَعَہٗ اس کو دور کر دیا۔صَدَمَہٗ اس سے ٹکرایا (اقرب ) اسی طرح لکھا ہے اَلزَّبَانِیَۃُ عِنْدَا لْعَرَبِ اَلشُّـرَطُ یعنی زَبَانِیَۃ کے معنے عربی زبان میں پولیس کے ہوتے ہیں(اقرب) تفسیر۔زَبَانِیَۃ سے مراد صحابہ کرام فرماتا ہے وہ بھی اپنے ساتھیوں کو بلاتے اور مسلمانوں کے خلاف مجالس منعقد کیا کرتے تھے اس کے مقابل میں ہم بھی اپنی پولیس کو بلانے والے ہیں۔مفسرین لکھتے ہیں کہ زبانیہ سے مراد دوزخ کے فرشتے ہیں(فتح البیان زیر آیت سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ) مگر میرے نزدیک یہ دوزخ کے نہیں بلکہ جنت کے فرشتے ہیں اور اس سے مراد وہ صحابہؓ ہیںجنہوں نے بدر کی جنگ میں کفار کو ان کے بالوںسے پکڑ کر گھسیٹا اور انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچایا انہی صحابہؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مظلوم،کمزور اور بے بس مسلمان جنہیں تم نے اپنے مظالم کا تختہء مشق بنایا ہوا ہے ہماری پولیس کے سپاہی ہیں۔پولیس والا کبھی اکیلا پکڑا جاتا ہے اور چوروں اور ڈاکوئوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو وہ اسے خوب مارتے پیٹتے ہیں مگر جب گارد آتی ہے تو اس