تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 421

باندھ کر ہمیں گلیوں میں گھسیٹنا شروع کردیتے اور بعض دفعہ رسیاں باندھنے کی بجائے سر کے بالوں کو پکڑ کر گھسیٹنے لگ جاتے۔گلیوں میںپتھر پڑے ہوئے ہوتے تھے مگر وہ اس بات کی کوئی پروا نہ کرتے اور ہمیں بے دردی کے ساتھ ان پتھروں پر گھسیٹتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہمارے چمڑے چھل جاتے اور چونکہ یہ مظالم ان کی طرف سے متواتر ہوئے اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے چمڑے اپنی شکل کھوبیٹھے اور اس شکل میں آگئے جس شکل میں آج تم دیکھ رہے ہو(الطبقات الکبرٰی باب فی ذکر خباب بن الارت)۔انہی واقعات کی طرف جو مکہ میںپیش آنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اشارہ کردیا اور بتادیا کہ ابھی تو یہ لوگ صرف عبادت سے روک رہے ہیں پھر وہ بھی وقت آنے والا ہے جب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹے جائیں گے اور ان کی کمریں چھیلی جائیں گی اور چونکہ مسلمانو ں کے ساتھ یہ واقعات پیش آنے والے ہیں اور کفار مکہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ان کو قسم قسم کے مصائب میں مبتلاکرنے والے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ تم آج اس شخص کو جو ان میں خاص اثر رکھتا ہے اور جو اپنی طاقت اور قوت کا دعویدار ہے یہ سنادو کہ اگر ان کو گھسیٹنا آتا ہے تو ہم کو بھی گھسیٹنا آتا ہے ہم ان کے سر کے بالوں سے نہایت سختی کے ساتھ گھسیٹیں گے۔اگر یہ اس ناصیہ کو گھسیٹا کرتے تھے جو خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتی تھی تو ہم اس ناصیہ کو کیوں نہیں گھسیٹیں گے جو جھوٹی اور خطا کار ہے اگر خدائے واحدکے آگے عبادت کرنے والی ناصیہ گھسیٹی جا سکتی ہے تو وہ ناصیہ جو بتوںکے آگے جھکتی ہے وہ گھسیٹے جانے کی کیوں مستحق نہیں۔نَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ کی پیشگوئی کا وقوع ہم دیکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے ابو جہل سے ایسا ہی سلوک کیا۔چنانچہ بدر کی جنگ جب ختم ہوئی اور دشمن مارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسی حکم کے مطابق کہ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ابوجہل کو سر کے بالوں سے گھسیٹ کر اس گڑھے میں گرایا گیا جو اس کے لئے قبر کے طور پر تیار کیا گیا تھا(تفسیر کبیر امام رازی زیر آیت لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ )۔کہنے والا کہے گا یہ وحشت تھی کہ مردہ کو بالوں سے گھسیٹا گیا مگر یہ وحشت نہیں تھی بلکہ بدلہ تھا ان مظالم کا جو مسلمانوں پر ڈھائے جاتے تھے اوربدلہ بھی نہایت معمولی۔کیونکہ اس نے تو زندوں کو گھسیٹا تھا جب انہیں تکلیف ہوتی تھی۔مگر ابوجہل کو مردہ ہونے کی حالت میں گھسیٹا گیا جبکہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہوسکتی تھی۔میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ ایک انگریز جرنیل میرے پاس آیا ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ کا کیا فتویٰ ہے آیا قتل کے بدلہ میں قتل ہی ہے یا قاتل کو کوئی اور سزا بھی دی جاسکتی ہے؟ پھر اس نے کہا ہمارے بعض آدمیوں کو جب سرحد پر مارا جاتا ہے تو ان کی لاشوں کو چونہ میں ڈال کر جلادیا جاتا ہے یا ان کو مختلف قسم کے عذاب