تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 420
كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِۙ۰۰۱۶ یوں نہیں (ہوگا جیسے وہ چاہتا ہے بلکہ) اگر وہ (ان کاموں سے ) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کے گھسیٹیں گے۔نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ۰۰۱۷ ایک جھوٹی پیشانی (اور )خطاکار پیشانی (کے)۔حلّ لُغات۔نَسْفَعُ نَسْفَعُ: سَفَعَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور سَفْعٌ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو پکڑ کر سختی سے گھسیٹنا اور نَاصِیَۃ سر کے اگلے حصہ یا سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے (اقرب)۔تفسیر۔فرماتا ہے كَلَّا ہرگز نہیں۔ہرگز نہیںتم جو یہ خیال کرتے ہو کہ ہمارے اس بندے کو کمزور اور ناتوان سمجھ کر اور بے یارومددگار خیال کرکے عبادت سے روک دو گے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔تمہارے سارے خیالات باطل ثابت ہوں گے اور تمہاری اپنی طاقت اور قوت کے متعلق گھمنڈ سب جاتا رہے گا۔چنانچہ آج ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ جو ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے جو لیڈر اور سردار قوم کہلاتا ہے اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے گا تو ہم اسے سختی سے گھسیٹ کر اس کا انتقام لیں گے۔سَفْعٌ کے معنے عربی زبان میں کسی چیز کو پکڑکر زور سے گھسیٹتے لئے جانے کے ہوتے ہیں۔کفار میں بھی یہ عادت تھی کہ جب مسلمان غلام نماز کے لئے جاتے یا اپنے کسی اور کام کے لئے باہر نکلتے تو وہ انہیں کبھی ٹانگوں سے پکڑ کر اور کبھی سر کے بالوں سے پکڑ کر نہایت سختی کے ساتھ گھسیٹنا شروع کردیتے اور کہتے کہ تم بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں کرتے ہو۔غلاموںپر کفارِ مکہ کی سختی ایک غلام صحابی نے جو لمبے عرصہ تک کفارکے مظالم کا تختۂ مشق بنے رہے تھے ایک دفعہ اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں اپنی قمیص اتاری تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی پیٹھ کاچمڑا ایسا ہے جیسے بھینسے کا چمڑا ہوتا ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ غالباً یہ کوئی مرض ہے۔چنانچہ انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے کہ آپ کی پیٹھ کا چمڑا بالکل ایسا ہے جیسے کسی جانور کا چمڑا ہوتا ہے۔وہ صحابی ہنس پڑے اور کہا تم کیا جانو کہ یہ کیا چیز ہے۔یہ بیماری نہیں بلکہ ان مظالم کا نشان ہے جو کفار مکہ کی طرف سے ہم پر ڈھائے جاتے تھے۔پھر انہوں نے سنایا کہ جب ہم نے اسلام قبول کیا تو چونکہ ہم غلام تھے اور مالک کو اس ملک کے قانون کے مطابق ہم پر ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے۔جب وہ دیکھتے کہ ہم شرک نہیں کرتے تو بعض دفعہ وہ ہمارے پائوں میں رسیاں