تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 413
حالات کا جو مرنے کے بعد حاصل ہونے والی ہے کچھ بھی علم نہیں اور انہوں نے لوٹ کر آخر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جانا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس زندگی میں کام آنے والی باتیں نہیں بتائے گا تو ان کو پتہ کس طرح لگے گا کہ وہاں کون سے اخلاق کام آسکتے ہیں۔کون سے اعمال ان کی اخروی حیات کو سنوار سکتے ہیں، کون سے عقائد اختیار کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن سکتے ہیں۔یہ باتیں تو اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے خود اپنی عقل سے یہ لوگ وہاں کے حالات معلوم نہیں کر سکتے اس لئے ان کی سرکشی اور اپنے آپ کو ہدایت کے متعلق خدا تعالیٰ کی مدد سے مستغنی سمجھناحماقت کی بات ہے بغیر الٰہی امداد کے اس بارہ میں نہ انسان نے پہلے کامیابی حاصل کی ہے اور نہ اب کر سکتا ہے۔اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰىۙ۰۰۱۰ (اے مخاطب ) تو (مجھے)اس (شخص)کی (حالت کی) خبر دے جو روکتا ہے۔عَبْدًا اِذَا صَلّٰى ؕ۰۰۱۱ ایک ( عبادت گذار ) بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک مثال کے ذریعہ کفار کو ملزم کرتا ہے۔فرماتا ہے مجھے اس شخص کا حال تو بتائو یعنی ذرا اس شخص کی معقولیت تو مجھ پر ظاہر کرو۔اَرَءَيْتَ کے لفظی معنے ہوتے ہیں ’’کیا دیکھا تونے‘‘۔لیکن محاورہ میں اس کے معنے ہوتے ہیں اَخْبِرْنِیْ مجھے بتائو تو سہی(مفردات)۔چونکہ یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں اس لئے اَرَءَيْتَ کے معنے ہوں گے اے محمد رسول اللہ مجھے بتا تو سہی۔دراصل یہ زجر کا ایک طریق ہے کہ بات تو ہم دوسرے کی کرتے ہیں۔لیکن ہم اس کو مخاطب کرنا نہیں چاہتے۔وہ سنے گا تو آپ ہی دل میں شرمندہ ہوگا کہ میں کیسی لغو حرکت کررہا ہوں۔ہم اس کی بجائے تجھے مخاطب کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا اس شخص کا حال تو بتائو يَنْهٰىجو روکتا ہے مگر کس کو؟ کسی جھگڑالو کو نہیں، کسی لڑاکے کو نہیں، کسی فریبی کو نہیں، کسی ڈاکو کو نہیں بلکہ عَبْدًا ہمارے ایک مسکین اور عاجز بندے کو۔اور روکتا کس بات پر ہے۔اس پر نہیں کہ اس نے فلاں قانون کو پورا نہ کیا یا فلاں سیاسی مسئلہ میں اس نے ہم سے اختلاف رکھا بلکہ اِذَا صَلّٰى۔وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور یہ دوڑ کر اس کا گلا پکڑلیتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی بھی معقول انسان اس امر کو جائز اور درست قرار دے سکتا ہے؟ کوئی سیاسی اختلاف نہیں، کوئی اقتصادی اختلاف نہیں، کوئی تمدّنی اختلاف نہیں، کوئی حاکم اور محکوم