تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 411

بعض حصے ایسے ہیں جہاں منٹ منٹ کے بعد موسم بدلتا رہتا ہے۔ابھی گرمی ہوتی ہے اور ابھی تھوڑی دیر کے بعد ہی سردی شروع ہوجاتی ہے۔سردی ہوتی ہے تو معاً گرمی شروع ہو جاتی ہے وہاں یہی حالت رہتی ہے کہ جرسی پہنی اور اتاردی پھر پہنی اور اتار دی۔غرض دنیا میں یہ طریق ہے کہ جب کوئی شخص انگلستان جانا چاہے گا تو وہ پہلے واقف حال لوگوں سے پوچھے گا کہ مجھے وہاں کیسے کپڑوں کی ضرورت ہے یا امریکہ جانا چاہے گا تو وہاں سے آنے والے لوگوں سے پوچھے گا کہ مجھے امریکہ میں کن کن چیزوں کی ضرورت ہوگی۔مثلاً ہندوستا نیوں کو عام طور پر مرچیں کھانے کی عادت ہوتی ہے۔اب اگر کوئی ایسا شخص امریکہ جانا چاہے گا جسے مرچیں کھانے کی عادت ہوگی تو وہ یہ ضرور دریافت کرے گا کہ مجھے وہاں مرچیں مل سکتی ہیںیا نہیں اور جب نفی میں جواب ملے گا اور اسے مرچیں کھانے کا زیادہ شوق ہوگا تو وہ اپنے ساتھ مرچیں لے جائے گا تاکہ وہاں اسے تکلیف نہ ہو۔یا مثلاً عرب میں کوئی ہندوستانی جسے پان کا شوق ہو جانا چاہے گا تو وہ پہلے واقف حال لوگوں سے پتہ لگائے گا کہ وہاں پان ملتا ہے یا نہیں۔تاکہ اسے حالات کا صحیح علم ہوجائے اور وہ ان کے مطابق اپنی تیاری کو مکمل کرے غرض یہ ایک طبعی بات ہے کہ جب انسان نے کہیں جانا ہوتا ہے وہ پہلے واقف لوگوں سے مشورہ لیتا اور اس جگہ کے حالات کو معلوم کرتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ واقف لوگوں سے تو نہ پوچھے اور اپنے عقلی ڈھکونسلوں پر تیاری کی بنیاد رکھ دے۔اسی نکتہ کو اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى ان لوگوں کی عقل ماری ہوئی ہے انہوں نے جانا خدا کے پاس ہے لیکن کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اس بات کی کوئی ضرورت نہیںکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قرب کے راستے بتلائے۔ان نادانوں سے کوئی کہے کہ تم معمولی معمولی سفر اختیار کرتے ہو تو پہلے تمام حالات دریافت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہو۔تم پوچھتے ہو کہ جہاں میں جانا چاہتا ہوںوہاں گرمی ہے یا سردی۔کپڑے اپنے ساتھ کیسے لے جائوں۔کون کون سی ضروریات کا خیال رکھوں۔بوٹ اپنے ساتھ لے جائوں تو وہ کیسے ہوں۔بعض ملکوں میں اس کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں کہ معمولی بوٹ اگر انسان نے پہنا ہوا ہو تو شام تک وہ تھیلا بن کر رہ جاتا ہے۔اسی طرح بعض ملک ایسے ہیں جن میں اتنا مچھر ہوتا ہے کہ انسان بغیر مچھر دانی کے ایک رات بھی گذار نہیں سکتا۔غرض مختلف ملکوں کے مختلف حالات ہوتے ہیںاور انسان کو اس وقت تک اطمینان نہیں ہوتا جب تک وہ ان تمام حالات کو دریافت نہ کرلے۔غرض اس محدود دنیا میں جو صرف ۲۵ہزار میل میں پھیلی ہوئی ہے ایسے زمانہ میںجبکہ ریل اور تار اور ڈاک کے وسائل موجود ہیں ایک ملک سے دوسرے ملک جانے میں کئی قسم کی دقتیںحائل ہو جاتی ہیں۔اسی لئے واقف حال لوگوں سے حالات دریافت کرتا ہے اور اگر کوئی واقف نہیں ملتا تو کسی کمپنی کو لکھتا ہے کہ میں فلاں ملک میں جانا چاہتا ہوںمہر بانی فرما کر مجھے بتایا جائے