تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 409
وہ اسلام لے آئیں تو سمجھ لو کہ وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو تیرا کام صرف ہدایت پہنچانا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کو خوب دیکھنے والا ہے۔(۴) قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَ ( الانعام :۹۱) تو کہہ دے کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا یہ تو جہانوں کے لئے ایک نصیحت ہے یہ اور اسی قسم کی دوسری آیات جن میں جہانوں کے الفاظ قرآ ن کریم کے لئے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اُن کے متعلق مسیحی مبلّغ یہ کہہ دیتے ہیں کہ احزاب کالفظ خود تمہارے قرآن میں عرب کے قبائل کے متعلق آتا ہے اس لئے احزاب سے کُل دنیا کس طرح مراد لی جا سکتی ہے اور عَالَمِیْن کا لفظ جب حضرت مریمؑ اور بنی اسرائیل کے دوسرے لوگوںکے متعلق آتا ہے تو تم اس کے معنے صرف بنی اسرائیل کے کرتے ہو اگر وہاں عَالَمِیْن کے معنے صرف بنی اسرائیل کے ہو سکتے ہیں تو یہاں عَالَمِیْن کے معنے صرف عرب کے قبائل کے کیوں نہیں ہو سکتے؟ اور جو باقی آیتیں ہیں اُن میں صرف ایمان کے لئے بُلایا گیا ہے ایمان لانا ضروری قرار نہیں دیا گیا۔زیادہ سے زیادہ اِن آیتوں کے یہ معنے لئے جا سکتے ہیں کہ اگر اہل کتاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مان لیں تو زیادہ اچھا ہے مگر اہل کتاب کو نہ ماننے کی وجہ سے مجرم تو نہیں قرار دیا گیا۔گو یہ استدال مسیحیوں کا کچّا بلکہ غلط ہے لیکن ایک لمبا راستہ ہمیں اُن کو منوانے کے لئے اختیار کرنا پڑتا ہے بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن کریم کی وہ آیات جو اس بات کی تائید میں ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب دنیا کی طرف رسول ہیں اور قرآن کریم سب دنیا کے لیے کتاب ہے اس کے متعلق بعض شبہات (جو گو غلط ہیں) پیدا کرنے اور مسیحیوں کو اس ٹھوکر میں مبتلا کرنے کے سا مان خود مسلمان مفسّرین نے کئے ہیں اور بعض شبہات ایسے ہیں جو اپنی نافہمی اور پورا تدبر نہ کرنے کی وجہ سے غیر مسلموں کو اپنے طور پر پیدا ہو گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کو ایمان لانے کی جو دعوت قرآن کریم میں دی گئی ہے اُس کو وہ صرف ایک زائد خیر قرار دیتے ہیں لازمی اور قطعی قرار نہیں دیتے حالانکہ قرآن کریم نے نہ صرف اُن آیات میں جن کو اُوپر درج کیا گیا ہے اہل کتاب کا ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے چل کر ثابت کیا جائے گا صاف اور کھلے الفاظ میں اس امر کا اعلان کیا ہے کہ اہلِ کتاب کفر میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اب اُن کی نجات کی صرف یہی صورت باقی رہ گئی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور آپ کی غلامی اختیار کریں۔قرآن کریم کے بعد جب ہم کتب احادیث کو دیکھتے ہیں تو اُن میں بھی ایسی بہت سی روایات پائی جاتی ہیں جن سے قطعی اور یقینی طوپر ثابت ہو تاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب جہان کی طرف مبعوث ہوئے