تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 406
کرتا ہے اس کی تردید کی جائے اور اسے بتایا جائے کہ تمہارا خیال درست نہیں۔گویا كَلَّا کے معنے ہیں اے مخاطب ’’یوں نہیں۔یوں نہیں‘‘ جیسا تم سمجھتے ہو ہمارےملک میں بھی رواج ہے کہ جب کسی بات کو ردّ کرنا مقصود ہو تو کہتے ہیں ’’نہیں نہیں۔نہیں نہیں ‘‘۔پس كَلَّا کیا ہے درحقیت ’’نہیں نہیں‘‘ کا ایک مترادف لفظ ہے جو عربی زبان میں استعمال ہوتاہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھتے ہو وہ درست نہیں بات دراصل کچھ اور ہے۔اب سوال پیدا ہوتاہے کہ پہلے مضمون میں وہ کون سی بات تھی جس پر دشمن اعتراض کرسکتا تھا اور جس کی یہاں نفی کی گئی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔اللہ تعالیٰ انسان کو وہ کچھ سکھائے گا جسے وہ اب تک نہیں جانتا۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنے الہام کے ذریعہ دنیا کی راہنمائی فرمائے گا اور خود اپنے پاس سے وہ تعلیم نازل کرے گا جو اسے روحانیت کے بلند ترین مقامات پر پہنچانے والی ہو۔اس پر اعتراض پیدا ہوتا تھا کہ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے کسی الہام کی ضرورت نہیں۔انسان خود اپنی عقل سے کام لے کر ترقی کرسکتا ہے۔چنانچہ یہ سوال ایسا ہے جو موجودہ زمانہ میں تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے خاص طور پر پیش کیا جاتا ہے۔جب ہم کہتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کا سامان کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کو ہمارے معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ہم خود اپنی عقل اور فہم سے کام لے سکتے اور اپنی ترقی کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔یہی اعتراض ہے جو عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا تھا اورانسان کہہ سکتا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔كَلَّا نے اس خیال کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ قطعی طور پر غلط بات ہے کہ انسان اپنی ہدایت اور بچائو کا سامان اپنے لئے خود بخود تجویز کرسکتاہے۔اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نازل نہ ہو تو دنیا کبھی ترقی کی طرف ایک قدم بھی بڑھا نہیں سکتی۔اس کی ترقی وابستہ ہے اللہ تعالیٰ کے الہام اور اس کے کلام سے۔اس کی ہدایت کے بغیر نہ انسان نے پہلے کبھی روحانی اصلاح کی اور نہ آئندہ کرسکتا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس خیال کی بنیاد پر روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ خیال انسان کے دل میں کیوں پیدا ہوتا ہے فرماتا ہے اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى یہ خیال کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں ہم اپنی ہدایت کا سامان خودبخود کرلیں گے۔یہ بغاوت اور سرکشی کا خیال ہے۔طَغٰی کے معنے جَاوَزَ الْقَدْرَ وَالْـحَدَّ کے ہوتے ہیں یعنی فلا ں شخص حد سے گزرگیا۔پس اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى کے یہ معنے ہوئے کہ یقیناً انسان حد سے باہر نکل جانے والا ہے۔ہم نے بے شک انسان کو قوتیں دی ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنی ہدایت