تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 401

سارا یورپ مسلمانوں کا شاگرد ہے یورپ نے ایک عرصہ دراز تک مسلمانوں کے اس احسان کو چھپانے کی کوشش کی ہے مگر اب خود یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو اپنی کتابوں میں بڑے زور سے لکھتے ہیں کہ یہ کیسی بے شرمی اور بے حیائی ہے کہ علم تو مسلمانوں سے سیکھا جائے مگر اپنی کتابوں میں ان کا ذکر تک نہ کیا جائے اور اس رنگ میں اپنے آپ کو پیش کیا جائے کہ گویا ان علوم کے موجد ہم ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ احسان فراموشی کی بد ترین مثال ہے کہ جنہوں نے ہم کو علم سکھایا ہے ہم ان کا ذکر تک نہیں کرتے اور اپنی طرف تمام علوم کو منسوب کرتے چلے جاتے ہیں۔میرے پاس اس قسم کی کئی کتابیں ہیں اور میں نے دیکھا ہے ان کتابوں کے مصنف اتنی شدت سے بحث کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے اپنی قوم کے اس فعل کے خلاف ان کے قلوب غیض و غضب سے بھرے پڑے ہیں۔جب ایک طرف وہ مسلمانوں کے احسانات کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنی قوم کی ڈھٹائی کو دیکھتے ہیں کہ ایک ایک چیز مسلمانوں سے حاصل کرنے کے بعد وہ مسلمانوں کا نام تک نہیں لیتی تو ان کے دلوں میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیںکہ یہ سخت نمک حرامی ہے کہ مسلمانوں کی ایک ایک چیز کو اپنا لیا جائے مگر ان کے علم و فضل اور احسان کا اشارۃً بھی ذکر نہ کیا جائے۔تھوڑاہی عرصہ ہوا میں نے ایک کتاب پڑھی جس میں موسیقی پر بحث کی گئی تھی۔موسیقی کا آغاز بھی مسلمانوں سے ہی ہوا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کا حکم دیا تھا اسی سے ان کو موسیقی کی طرف توجہ ہوئی جس نے رفتہ رفتہ ایک بہت بڑے علم کی صورت اختیار کر لی۔یورپ دعویٰ کرتا ہے کہ موجودہ موسیقی کا علم اس نے ایجاد کیا ہے مگر جس کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کے مصنف نے بڑے زور سے یہ بات پیش کی ہے کہ یورپ کا یہ ادّعا محض دھوکہ اور فریب ہے۔موسیقی کا علم یورپ نے مسلمانوں سے سیکھا ہے اور پھر وہ اس کا ثبوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ برٹش میوزیم میں فلاں نمبر پر فلاں کتاب موجود ہے اس میں فلاں پادری کے نام کا ایک خط درج ہے جو کسی عیسائی نے اسے لکھا اور اس خط کا مضمون یہ ہے کہ میں سپین گیا تھا وہاں مسلمانوں کی موسیقی کا کمال دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔مسلمانوں کی موسیقی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ان کے مقابلہ میں ہماری موسیقی بہت ادنیٰ معلوم ہوتی ہے۔اگر آپ اجازت دیں اور یہ امر دین نصرانیت کے خلاف نہ ہو تو میں چاہتا ہوں کہ ان کی موسیقی کا ترجمہ یوروپین لوگوں کے لئے کردوں تاکہ ہمارے گرجائوں میں بھی یہ اعلیٰ درجہ کی موسیقی رائج ہوجائے اور عیسائیت زیادہ محبوب ہوجائے۔وہ کہتا ہے اس خط کا پادری صاحب نے جو جواب دیا وہ بھی آج تک برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔پادری صاحب نے جواب یہ دیا کہ کوئی حرج نہیں آپ سپین کی موسیقی کا بے شک ترجمہ کریں مگر دیکھنا