تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 400
اور علم بیان محض قرآن کریم کے طفیل ایجاد ہوئے۔پھر قرآن کریم کے محاورات اور اس کے استعارات کی حقیقت واضح کرنے کے لئے بلاغت کی بنیاد پڑی کیونکہ اس کے بغیر قرآنی محاورات کی حقیقت سمجھ میں نہیں آسکتی۔اس فن کے متعلق لغت کی کتب میں ایک لطیفہ بیان ہوا ہے لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی شخص نے مجلس میں اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں بعض ایسی باتیں آتی ہیں جو عقل کے با لکل خلاف ہیں۔مثلاً لکھا ہے يُرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ (الکہف:۷۸) کہ دیوار یہ ارادہ کر رہی تھی کہ گر جائے بھلا دیوار بھی کبھی گرنے کا ارادہ کیا کرتی ہے یہ کیسی جاہلوں والی بات ہے جو قرآن کریم نے کہی ہے ایک اور عالم شخص وہاں موجود تھے مگر انہیں اس اعتراض کا جواب نہ آیا وہ حیران تھے کہ میں کیا کہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد ہی اس شخص نے اپنے نوکر کو جو کسی اچھے قبیلہ میں سے تھا بلایا اور اسے کہا میرا فلاں دوست بیمار ہے جائو اور اس کا حال دریافت کر کے آئو۔وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی آکر کہنے لگا حضور میں کیا عرض کروں یُرِیْدُاَنْ یَّـمُوْتَ وہ تو مرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔یہ سنتے ہی اس پر گھڑوں پانی پھر گیا کہ میں جو کچھ اعتراض کر رہا تھا اس کا جواب مجھے اپنے نوکر کے ذریعہ مل گیا۔اس کا اعتراض یہ تھا کہ دیوار بھی کبھی ارادہ کیا کرتی ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اسے اس رنگ میں دیا کہ اس کے اپنے نوکر نے اسے آکر کہہ دیا کہ یُرِیْدُاَنْ یَّـمُوْتَ وہ مرنے کا ارادہ کررہا ہے حالا نکہ مرنے کا کوئی شخص ارادہ نہیں کیا کرتا۔دراصل یہ ایک استعارہ تھا اور اس کے معنے یہ تھے کہ وہ مرنے پر تیار ہے۔اسی طرح يُرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ کے معنے یہ ہیں کہ وہ دیوار گرنے پر تیار تھی نہ یہ کہ دیوار کوئی جاندار چیز ہے جو گرنے کا ارادہ کیا کرتی ہے۔(فقھہ اللغۃ باب فی اضافۃ الفعل الیٰ ما لیس بفاعل علی الـحقیقۃ ) غرض یہ علوم جو دنیا میں یکے بعددیگرے ظاہر ہوئے محض قرآن کریم کے طفیل اور اس کی تائید کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرما ئے ہیں۔اگر یہ علوم پیدا نہ ہوتے تو قرآن کریم کی حقیقت اور اس کی اعلیٰ درجہ کی شان کو لوگ پوری طرح سمجھنے سے قا صر رہتے۔یہی حال علم اقتصادیات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآنی اقتصادیات کی توضیح کے لئے دنیا میں قائم کیا غرض صرف کیا اور نحو کیا اور تاریخ کیا اور ادب کیا اور کلام کیا اور فقہ کیا سب علوم قرآن کریم کی خدمت کے لئے نکلے ورنہ عرب تو محض جاہل تھے۔انہیں ان علوم کی طرف توجہ ہی کس طرح پیدا ہو سکتی تھی۔ان کو توجہ محض اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے قرآن کو مانا اور پھر قرآن کریم سے دنیا کو روشناس کرانے کے لئے انہیں ان علوم کی ایجاد یا ان کے پھیلانے کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔اب رہی باقی دنیا سو اس نے بھی قرآن کریم سے ہی ان تمام علوم کو سیکھا ہے کیونکہ یہ علوم وہ ہیں جو عربوں نے ایجاد کئے یا زندہ کئے اور پھر عربوں سے باقی دنیا نے لئے۔