تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 399
قرآن کریم عربوں میں نازل ہوا اور عرب با لکل جاہل تھے۔انہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ تاریخ کس علم کا نام ہے یا صرف اور نحو کون سے علوم ہیں یا فقہ اور اصول فقہ کس چیز کانام ہے۔مگر جب قرآن کریم پر ایمان لانے کی سعادت ان کو حاصل ہو گئی تو قرآن کریم کی وجہ سے انہیں ان تمام علوم کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔مثلاًجب انہوں نے قرآن کریم میں پڑھا کہ پہلے زمانو ںمیںفلاں فلاں انبیاء آئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ یہ واقعات پیش آئے تھے تو قرآن کریم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے انہیں گذشتہ واقعات کی چھان بین کرنی پڑی اور اس طر ح علم تاریخ کی ایجاد عمل میں آئی۔پھر بے شک قرآن کریم عربی زبان میں تھا اور اہل عرب کے لئے اس کا سمجھنا یا اس کی صحیح تلاوت کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔مگرجب اسلام نے عرب کی سرزمین سے باہر قدم رکھا تو غیراقوام کے میل جول کی وجہ سے عربوں میں بھی اعراب کی غلطیاں شروع ہو گئیں جس پر انہیں اس زبان کے قواعد جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح علم صرف اور نحو کی ایجاد ہو گئی۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ا لاسود اپنے گھر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی قرآن کریم کی آیت اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَ رَسُوْلُهٗ کو اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَ رَسُوْلِهٖ پڑھ رہی ہے۔آیت کے معنے تو یہ ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں ہی مشرکوں سے بیزار ہیں مگر رَسُوْلُهٗ کی بجائے رَسُوْلِهٖ پڑھنے سے آیت کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے اور اپنے رسول سے بھی گویا پیش کی جگہ زیر پڑھنے سے آیت کے کچھ کے کچھ معنے ہو گئے۔وہ گھبرائے ہوئے حضرت علیؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا ہمارے ملک میں اب بہت سے عجمی لوگ آگئے ہیں اور ہماری بیٹیاں بھی ان سے بیاہی گئی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماری زبان خراب ہو گئی ہے۔میں ابھی اپنے گھر گیا تھا تو میں نے اپنی بیٹی کو اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَرَسُوْلُهٗ کی بجائے اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَ رَسُوْلِهٖ پڑھتے سنا۔اگر اسی طرح غلطیاں شروع ہوگئیں تو طوفان برپا ہو جائے گا۔اس کے انسداد کے لئے ہمیں عربی زبان کے متعلق قواعد مدون کرنے چاہئیں تاکہ لوگ اس قسم کی غلطیوں کے مرتکب نہ ہوں۔حضرت علیؓاس وقت گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں باہر تشریف لے جا رہے تھے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔چنانچہ اسی وقت آپ نے بعض قواعدبتلائے اور پھر فرمایا اُنْـحُ نَـحْوَہٗ وَ نَـحْوَہٗ اس بنیاد پر اور بھی قواعد بنا لو چنانچہ اسی بناء پر اس کو علم نحو کہا جاتا ہے۔پس قرآن کریم کی صحت کے لئے علم صرف اور نحو ایجاد ہوئے۔پھر قرآن کریم کے معنے کے لئے لغت لکھی گئی۔کیونکہ عربوں کو خیال آیا کہ جب عجمی لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو وہ قرآن کریم کے معنے کس طرح سمجھیںگے پس لغت بھی قرآن کریم کی خدمت کے لئے لکھی گئی۔اس کے بعد قرآن کریم کی تشریح کے لئے علم فقہ اور اصول فقہ کی ایجاد عمل میں آئی۔اسی طرح علم معانی