تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 398
تبدیلی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہ واقعہ ماضی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے الہامات میں جب قطعی اور یقینی طور پر کسی بات کو بیان کرنا ہو تو وہ ماضی کاصیغہ استعمال کرتا ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تم اس بات کو ایسا سمجھو کہ گویا ہو چکی ہے اور اس کا وقوع با لکل قطعی اور یقینی ہے ایسا ہی قطعی اور یقینی جیسے ماضی ہوتی ہے۔عَلَّمَ بِالْقَلَمِ میں اس بات کی پیشگوئی کہ قرآن کریم کے ذریعہ علوم پھیلیں گے اسی طرح گو اس جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے مگر الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے علوم کو قطعی اور یقینی اور غیر متبدل طور پر قلم کے ذریعہ سکھائے گا یعنی یہ قرآن لکھا جائے گا۔لکھ کر قائم کیا جائے گا اور اس کی تائید میں لوگوں کی قلمیں چلا کریں گی۔اب دیکھ لو قرآن کریم کی یہ پیش گوئی کیسے بیّن طریق پر پوری ہوئی ہے۔دنیا میں صرف یہی ایک کتاب ہے جو قلم سے محفوظ کی گئی ہے اس کے علاوہ اور کوئی کتاب قلم سے محفوظ نہیں ہوئی۔موسٰی کی کتاب اس وقت نہیں لکھی گئی جب وہ موسٰی پر نازل ہوئی تھی۔ابراہیم ؑ کے صحف اس وقت نہیں لکھے گئے جب وہ ابراہیم ؑ پر نازل ہوئے تھے۔وید اس وقت نہیں لکھے گئے جب وہ رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ژند اور اوستا اس وقت نہیں لکھی گئیں جب وہ زرتشت پر نازل ہوئی تھیں انجیل اس وقت نہیں لکھی گئی تھی جب حضرت مسیحؑ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تازہ بتازہ الہامات ہوتے تھے۔غرض دنیا میں کوئی ایک الہامی کتاب بھی ایسی نہیں جو ابتداء میں لکھی گئی ہو۔صرف قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو شروع سے لکھی گئی ہے اور آج تک انہی الفاظ میں محفوظ ہے جن الفاظ میں یہ کتاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اور یہ بات ایسی پختہ اور یقینی ہے کہ دشمنان اسلام تک یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی کتاب ایسی ہے جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شروع سے لے کر اب تک ایک حرف اور ایک زبر اور ایک زیر کے تغیر کے بغیر اسی رنگ میں محفوظ ہے جس رنگ میں وہ دنیا کے سامنے پیش ہوئی تو وہ صرف قرآن کریم ہے۔میور، نولڈکے اور سپرنگر جو مشہور یوروپین مستشرق ہیں اور جنہوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی تمام عمر بسر کی ہے انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی فرق نہیں پڑا۔یہ شروع سے لے کر اب تک ہر قسم کے تغیر اور انسانی دستبرد سے محفوظ چلا آ رہا ہے۔(The Life of Mahomet by Sir William Muir P:561 - A Comprehensive Commentary on The Quran by Wherry V۔1 P:109) پھر عَلَّمَ بِالْقَلَمِ کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ قرآن کریم کے ذریعہ آئندہ سارے علوم دنیا میں پھیلیں گے۔چنانچہ آج جس قدر علوم نظر آتے ہیں یہ سب قرآن کریم کے طفیل معرض وجود میں آئے ہیں۔