تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 397

جلوہ خدا تعالیٰ کے اَکْرَم ہونے کا نہیں تھا۔اب تیرے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے اَکْرَم ہونے کا جلوہ ظاہر کرنے والا ہے اور اس کی صفات کا ایسا ظہور ہوگا جس کی مثال دنیا میں اس سے پہلے نہیں مل سکتی۔اس لئے تیرے لیے مایوسی اور گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ۰۰۵ جس نے قلم کے ساتھ سکھا یا (ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا)۔تفسیر۔اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ نے قلم سے بندہ کو سکھایا ہے کیونکہ یہ خلاف واقعہ ہے۔کب قلم لے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندے کو الف اور با ء سکھلائی ہے جب ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تو یہ معنے کس طرح ہوسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قلم سے بندے کو سکھایا۔اسی طرح اس سے یہ مراد بھی نہیں ہو سکتی کہ بندہ جو کچھ قلم سے سکھاتا ہے وہ سب خدا تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہوتا ہے کیونکہ بندے دوسروں کو جھوٹ بھی سکھاتے ہیں۔دغا اور فریب بھی سکھا تے ہیں۔اخلاق اور روحانیت سے گری ہوئی باتیں بھی سکھاتے ہیں۔گندے اور ناپاک اشعار بھی سکھاتے ہیں الف لیلیٰ کے قصے بھی سکھاتے ہیں۔ہزاروں افراد دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیںجو لغویات لکھتے اور لغویات شائع کرتے رہتے ہیں۔پھر قلم سے کام لینے والے وہ لوگ بھی دنیا میں موجود ہیںجو اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں۔وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اخلاق کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مذہب کے خلاف ہیں۔غرض ہر سچی تعلیم کا منکر دنیا میں موجود ہے۔اس لئے عَلَّمَ بِالْقَلَمِ سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ بندہ جو کچھ قلم سے سکھاتا ہے وہ سب خدا تعالیٰ کا سکھایاہوا ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہزاروں افتراء ہوتے ہیں۔ماضی کے صیغہ کا استعمال قطعی معنوں میں عَلَّمَ بِالْقَلَمِ میںگوما ضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد مستقبل ہے۔یہ عربی زبان کا قا عدہ ہے کہ کبھی ماضی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور مراد استقبال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ محاورہ کثرت سے استعمال ہوا ہے۔اسی طرح الہامات میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔درحقیقت ماضی کو استقبال کے معنوںمیں اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ ما ضی سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہوتی ہے۔جب انسان کوئی کام کر رہا ہو تو ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس کام کو پوری طرح کر بھی سکے گا یا نہیں۔مثلاًزید پڑھ رہا ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اسی طرح پڑھتا چلا جائے گا یا مر جائے گا۔لیکن جب ہم کہیں زید پڑھ چکا ہے تو اس میں کوئی