تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 396

کردے اور اس غرض کو پورا نہ کرے جس کی بنیاداس نے آدم کے وقت سے رکھ دی تھی۔غرض ایک طرف اس ذریعہ سے آپ کے دل میں یقین کامل پیدا کیا گیا۔دوسری طرف ایمان اور جوش عمل میں ترقی بخشی گئی اور تیسری طرف خدائی فضل کو خود اس کے مقصد کا واسطہ دے کر جوش دلایا گیا۔پس بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کا اضافہ بے فائدہ نہیں بلکہ اپنے اندر بہت بڑے فوائد اور حکمتیں رکھتا ہے۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ۰۰۴ (پھر ہم کہتے ہیں کہ ) پڑھ در آنحا لیکہ تیرا رب (اتنا) بڑا کریم (ہونا ظاہر کر رہا ) ہے۔حلّ لُغات۔اَکْـرَمُ اَکْرَمُ اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور کَرِیْمٌ کے معنے سخی کے بھی ہوتے ہیں اور کَرِیْمٌ اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس سے زیادہ نفع پہنچے۔اسی طرح ہر چیز میں سے جو زیادہ اچھی ہو اسے بھی کَرِیْمٌ کہتے ہیں (اقرب)۔گویا ہر چیز کے آخری نقطہ کو عربی زبان میں کَرِیْمٌ کہا جاتا ہے۔جب کَرِیْمٌ کے معنے اَحْسَنَ کے ہوئے تو اَکْرَمُ کے معنے ہوئے احسنوںکا احسن۔پس رَبُّكَ الْاَكْرَمُ کے یہ معنے ہیں کہ تیرا رب وہ ہے جو اچھی سے اچھی چیزوں سے بھی احسن ہے۔تفسیر۔رَبُّكَ الْاَكْرَمُ کہہ کراس طر ف تو جہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اَکْرَم ہونے کا حق دنیا نے تلف کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ اَکْرَم ہے مگر دنیا میں اس کے اَکْرَم ہونے کا حق ادنیٰ معبودوں کو دے دیا گیا ہے۔کوئی بتوں کو پوجتا ہے۔کوئی عیسیٰ کی پرستش کرتا ہے اور کوئی کسی اور کے آگے اپنے سر کو جھکا رہا ہے۔تو اٹھ اور خدا تعالیٰ کا حق اسے واپس دلا۔دنیا نے اللہ تعالیٰ کی شان کو نہیں پہچانا۔اس نے خدائی کا حق کچھ بتوں کو دے دیا ہے اور کچھ انسانوں کو۔اب تیرا کام یہ ہے کہ تو دنیا پر خدا تعالیٰ کے اَکْرَم ہونے کی شان کو ظاہر کرتا آستانہ الوہیئت سے بھولی بھٹکی مخلوق پھر اس کی طرف واپس آئے اور پھر اس کے اَکْرَم ہونے کی شان دنیا میںتسلیم ہونے لگے۔دوسرے اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تو اپنے آپ کو کمزورنہ سمجھ جس خدا نے تجھے کھڑا کیا ہے وہ اَکْرَم ہے۔وہ احسنوں کا بھی احسن ہے تجھے اپنی تعلیم کے متعلق یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے اَکْرَم ہونے کا جلوہ ظاہر ہونے والا ہے۔بے شک موسٰی کے وقت بھی خدا تعالیٰ کا جلوہ ظاہر ہوا مگر وہ جلوہ اس کے اَکْرَم ہونے کا نہیں تھا۔اسی طرح دائود ؑاور سلیمان ؑ اور عیسٰیؑ وغیرہ کے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا جلوہ ظاہر ہوا مگروہ