تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 395
ہے یا مثلاً ایک شخص اگر اس رنگ میں دعا کرتاہے کہ اے ممیت خدا میرے دشمن نے مجھے سخت تنگ کررکھاہے تو میرے دشمن کو ہلاک کر اور مجھے اس کے شر سے محفوظ رکھ تو یہ بالکل صحیح دعا ہوگی۔لیکن اگر وہ اس طرح دعاکرے کہ اے محی خدا، اے خالق خدا میرے دشمن کو ہلاک کر دے تو یہ کیسی بیوقوفی والی بات ہوگی۔پس اگر اس صفت کو ملحوظ رکھ کر دعا کی جائے جو دعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو تو انسان کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔اسی حکمت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے یہاں بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کا اضافہ کیااور فرمایا جب تو دعا مانگنے لگے تو اس رنگ میں دعا مانگ کہ اے خدا جس نے پیدائش عالم سے میری بعثت کو اپنی دنیا کا مقصد قرار دیا ہواہے میں تجھ سے اسی ارادہ کا واسطہ دے کر التجاء کرتا ہوں کہ تو مجھے کامیاب کر۔اگر تو اس رنگ میں دعا مانگے گا تو تیری دعا بہت جلد قبول ہوگی اور تو قلیل سے قلیل عرصہ میں اپنے مقاصد کو حاصل کرلے گا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ جب متعلقہ صفت کوملحوظ رکھ کر دعا مانگی جائے تو خود انسان کی امید بڑھ جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام ضرور ہوجائے گا۔مثلاً جب یہ دعاکی جائے کہ اے خدا تو نے کہا تھا کہ میں ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کروں گا اور تونے اسی مقصد کے لئے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اب میں تجھ کو تیری اسی صفت کا واسطہ دے کر جو تمام پیدائش عالم کا موجب ہوئی التجا اور دعا کرتا ہوں کہ دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کردے اور اس مقصد کو پورا کر جو پیدائش عالم کا موجب تھا۔تو ایک طرف اللہ تعالیٰ کا فضل زیادہ زور کے ساتھ نازل ہونا شروع ہوجائے گا اور دوسری طرف خود دعا مانگنے والے کی اپنی امید بڑھ جائے گی اور اس کے سامنے یہ امر رہے گا کہ میری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں۔جس کام کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ ضرور ہوجائے گا کیونکہ وہ مقصود ہے اللہ تعالیٰ کا۔بلکہ اگر مجھ سے کوئی کمزوری بھی ہوئی تب بھی ہوجائے گا۔پس دوسرا فائدہ دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے سامنے رکھنے کا یہ ہوتا ہے کہ خود انسان کے اندر امید پیدا ہوجاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام اب ضرور ہوجائے گا۔تیسری حکمت اس طریق میں یہ تھی کہ اس سلسلہ پر نظر کر کے جو ایک لمبے عرصہ سے چلا آتا تھا آپ کا ایمان بھی اور جوش عمل بھی ترقی کرتا جائے گا۔جب آپ یہ کہیں گے کہ اے خدا جس نے آدمؑ کو دنیا کی ترقی کے لئے بھیجا پھر اسے اور ترقی دینے کے لئے نوح کو بھیجا پھر اور ترقی دینے کے لئے موسٰی اور عیسٰی کو بھیجا اور پھر اور ترقی دینے کے لئے مجھے بھیجا تو اسلام کو فتح دے تو آپ کے دل میں اسلام کے غلبہ اور اس کی کامیابی کے متعلق جو یقین پیدا ہوگا ظاہر ہے اس طرح ہر وقت آپ کے سامنے یہ امر رکھا گیا کہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو باطل