تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 394

الَّذِيْ خَلَقَ کا یہ بدل بھی ہوسکتا ہے۔اگر اس خَلَقَ کو پہلے خَلَقَ کا بدل سمجھا جائے تو اس صورت میں اس کے وہی معنے ہوں گے جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں یعنی خَلَقَ سے عام پیدائش مراد نہیں بلکہ انسان کی پیدائش مراد ہے۔لیکن اگر اس کو علیحدہ مضمون قرار دیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ تو پیدا کرنے والے رب کے نام سے پڑھ خصوصاًاس رب کے نام سے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تمام پیدائش ہی انسان کی پیدائش کے تابع ہے۔گویا انسانی پیدائش ہی اصل مقصود تھی۔پھر اس پیدائش میں سے پیدائش محمدی ہی مقصود تھی۔پس اے محمد رسول اللہ تو اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ مقصد یاد دلا کر کام شروع کر۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ خود ہی اس کام کو شروع کرنے والا ہے اور اس نے پیدائش عالم کے وقت سے ایک مقصد اپنے سامنے رکھا تھا اور وہ مقصد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی توپھر بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کہنے کا کیا فائدہ تھا۔کیا خدا تعالیٰ کو اپنا مقصد نعوذ باللہ بھول گیا تھا کہ اس ذریعہ سے اسے یاد دلانا ضروری سمجھاگیا؟ اس کا ایک جواب تومیں پہلے دے چکا ہوں کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ تو رسول ہونے کی حیثیت سے اس کام کو شروع کرہماری تائید تیرے ساتھ ہوگی اور ہماری نصرت تیرے شامل حال ہوگی۔پس باوجود اس حقیقت کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہان کا مقصود تھے اور پیدائش عالم کے روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ صرف آپ کی ذات تھی پھر بھی ان الفاط کی زیادتی بلا وجہ نہیں کی گئی بلکہ ان میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان کیاگیاہے اور آپ کو کہا گیا ہے کہ تو ہمارے نام کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام سنا۔جو لوگ تجھ پر ایمان لائیں گے انہیں میری رضاء حاصل ہوگی اور جو انکار کریں گے وہ میرے عذاب کا نشانہ بنیں گے۔لیکن اس کے علاوہ ایک اور جواب بھی ہے اور وہ یہ کہ دعا کے بھی کئی طریق ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی اسی صفت سے دعا مانگنی جو مقصد کے ساتھ متعلق ہو زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔میرا تجربہ ہے کہ دعا کا صحیح طریق یہ ہے کہ جس صفت سے دعا کا تعلق ہو اس کا نام لے کر دعا کی جائے۔اگر کسی شخص کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ یہ دعا کرے کہ اے خالق مجھے بچہ دے تو یہ دعا کا ایک صحیح طریق ہوگا۔لیکن اگر وہ یہ دعا کرے کہ اے جبار مجھے بچہ دے یا اے قہار مجھے بچہ دے یا اے ممیت مجھے اولاد عطا کر۔تو گو ممکن ہے اللہ تعالیٰ پھر بھی اس کے تضرع کو دیکھ کر اسے اولاد عطا کردے۔مگر ہر سننے والا شخص یہی کہے گا کہ یہ بڑی ردّی قسم کی دعا ہے۔وہ دعا تو یہ مانگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاںاولاد پیدا کرے اور وہ اپنی مدد کے لئے اس صفت کو پکار رہا ہے جس کا تعلق پیدا کرنے سے نہیں بلکہ مارنے کے ساتھ ہے یا قہر اور غضب کے ساتھ