تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 391
کرتا اور شیطان سے اتنی نفرت کرتا کہ اس سے بڑھ کر اور کسی سے نفرت نہ کرتا اس وقت تک یہ کس طرح کہا جاسکتا تھا کہ انسان اپنے ارتقاء کو پہنچ گیا ہے۔تم اگر یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی دنیا اپنے ارتقائی نقطہ کو حاصل کرچکی تھی تو یہ بالکل غلط ہے۔کیونکہ ابھی تک نہ تعلیم ایسی آئی تھی جو خدا تعالیٰ سے کامل محبت اور شیطان سے کامل نفرت کا سبق دیتی اور نہ کوئی انسان ایسا مبعوث ہوا تھا جس نے ان جذبات کو اپنے کمال تک پہنچادیا ہو اور جس نے خدا تعالیٰ سے ایسی محبت کی ہو جو اپنی ذات میں بے مثال ہو اور شیطان سے ایسی نفر ت کی ہو جو اپنی ذات میں بے مثال ہو۔اس لئے تم نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کا مقصود پورا ہوچکا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس خدا نے انسان کو ان د۲و طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، جس نے کامل درجہ کی محبت اور کامل درجہ کی نفرت کا مادہ اس کی فطرت میں ودیعت کیا ہے اے محمد رسول اللہ اس کا نام لے کر پڑھ یعنی دنیا میں اعلان کر کہ آج میرے ذریعہ خدا تعالیٰ سے کامل محبت اور شیطان سے کامل نفرت کا ظہور ہونے والا ہے۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے دوسرے معنے کہ انسان نے تدریجاً ترقی کی دوسرے معنے اس کے یہ ہوسکتے ہیں کہ انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ہے یعنی ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر بڑھایاگیا ہے۔جس طرح انسانی فرد کو ہم نے اس رنگ میں بنایا ہے کہ وہ ادنیٰ حالت سے ترقی کرکے کمال تک پہنچتاہے اسی طرح ہم نے تمام مخلوق کو بنایا ہے اور وہ اپنے کمال کے ظہور کے لئے ایک تدریج کی محتاج ہوتی ہے۔تم جانتے ہو اگر کسی عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اور اس کا پانچویں یا چھٹے مہینے اسقاط ہوجائے تو تم ایسی عورت کو بچہ والی عورت نہیں کہتے۔بچے والی عورت تم اسی کو کہو گے جس کا بچہ پورے دنوں کے بعد پیدا ہو۔اسی طرح اگر مخلوق تدریجی رنگ میں ترقی کرتے کرتے اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ تک نہ پہنچتی تو یہ ایسا ہی ہوتا جیسے کسی بچے کا پانچویں یا چھٹے ماہ اسقاط ہوجاتا ہے۔اگر موسٰی پر دنیا ختم ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔اگر عیسٰیؑ پر دنیا ختم ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔اگر پیدائش عالم کے نتیجہ میں ایک کامل وجود پیدا نہ ہوتا اور اس سے پہلے ہی یہ سب دنیا فنا ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔جیسے حمل کے پانچویں یا چھٹے مہینہ میں بعض دفعہ بچہ گر جاتا ہے اور عورت کو کوئی شخص صاحبِ اولاد نہیں کہتا۔یہی حال دنیا کا ہوتا اگر نویں مہینہ کا کامل وجود اس دنیا میں پیدا نہ ہوتا تو بنی نوع انسان کی پیدائش بالکل اکارت چلی جاتی۔دنیا بانجھ تو کہلاسکتی تھی مگر یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ جس مقصد کے لئے اس دنیا کو پیدا کیا گیا تھا وہ حاصل ہوگیا ہے۔بے شک اس سے پہلے عیسٰیؑ بھی آئے اور موسٰی بھی آئے اور