تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 389
اور اس نے صاف اور کھلے لفظوں میں اعلان کردیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں اور میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے آپؐسے ہی حاصل کیا ہے۔پس یہ سوال جاتا رہا کہ نقطہ مرکزی ابھی باقی ہے۔کیونکہ جسے سب سے آخر میں نقطہ مرکزی قرار دیا جاسکتا تھا اس نے خود آکر کہہ دیا ہے کہ میں نقطہ مرکزی نہیں بلکہ نقطہ مرکزی وہ ہے جو مجھ سے پہلے آچکا ہے۔بہرحال اعمال باب ۳ کی تصریحات سے جو حضرت مسیحؑ کی پیشگوئیوں پر مبنی ہیں یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ مقصود جہاں حضرت مسیحؑ کی بعثت اوّل کے بعد اور بعثت ثانیہ سے پہلے آنا تھا اور وہ ہمارے پیارے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تھا اسے یاد کرتے ہوئے کھڑا ہو اور تبلیغ کر کہ تو اس غرض کو پورا کرنے والا ہے۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ تو پڑھ یعنی دنیا کے سامنے میرا نام لے کر اعلان کر کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ بات کہتا ہوں مگر ساتھ ہی کہہ کہ اس رب سے مسیحیوں کا رب مراد نہیں جو بیٹے کا محتاج ہے، یہودیوں کا رب مراد نہیں جو ایک قوم سے وابستہ ہے، مشرکوں کا رب مراد نہیں جو کسی چیز کو پیدا کرنے سے قاصر ہے بلکہ الَّذِيْ خَلَقَ تو اس خدا کانام لے کر اعلان کر جس نے مخلوق کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیاتھا مگر ابھی تک وہ مقصد پورا نہیں ہوا تھا اب تیرے ذریعہ وہ مقصد پورا ہوا ہے۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ۰۰۳ (اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔حلّ لُغات۔عَلَقٌ عَلَقٌ کے معنے خون کے ہوتے ہیں خصوصاً اس خون کے جو گاڑھا اور جما ہوا ہو۔اسی طرح ہر وہ چیز جو لٹکی ہوئی ہو اسے بھی عَلَقٌکہتے ہیں اور عَلَقٌاس مٹی کو بھی کہتے ہیں جو بعض دفعہ کام کرنے کے بعد ہاتھ کے ساتھ لگی رہ جاتی ہے۔اسی طرح عَلَقٌدشمنی اور محبت کو بھی کہتے ہیں (اقرب)۔کیونکہ یہ چیزیں بھی دل میں جم جاتی ہیں۔نفرت پیدا ہوجائے تو وہ بھی دیر تک رہتی ہے اور محبت پیدا ہوجائے تو وہ بھی عرصہ تک قائم رہتی ہے۔عَلَقٌ عَلَقَۃٌ کی جمع بھی ہوسکتا ہے اور عَلَقَۃٌ کے معنے ہیں اَلْقِطْعَۃُ مِنَ الْعَلَقِ لِلدَّمِ۔خون کا لوتھڑا (اقرب)۔اگر عَلَقٌ کو جمع قرار دیا جائے تو اس کے جمع لانے میں یہ حکمت ہوگی کہ اَلْاِنْسَانُ سے مراد بھی جنس انسانی ہے کوئی ایک فرد مراد نہیں۔یعنی خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے یہ معنے نہیں کہ ہم نے ایک انسان کو عَلَقَۃٌ سے پیدا کیا ہے بلکہ