تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 388

اس میں اور زیادہ وضاحت سے انہوں نے قوموں کی نسبت سے اپنے حلقہ کی تعیین کردی اور بتادیا کہ میرا تعلق بنی اسرائیل کے علاوہ اور کسی قوم سے نہیں۔جب حضرت مسیحؑ کی بعثت صرف اسرائیلی قبائل کے لئے مخصوص تھی تو وہ حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئی کے مصداق ثابت نہ ہوئے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ کہا گیا تھا کہ تیری نسل کے ذریعہ زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی اور حضرت مسیحؑ کہتے ہیں کہ میں ساری دنیا کو برکت دینے کے لئے نہیں۔بلکہ صرف بنی اسرائیل کو برکت دینے کے لئے آیا ہوں۔دوم۔وہ شریعت نہیں لائے۔حالانکہ تمام پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا شریعت لائے گا۔پس چونکہ وہ شریعت نہیں لائے اس لئے انہیں دنیا کا مقصود قرار نہیں دیا جاسکتا۔سوم۔وہ خود اقرار کرتے ہیںکہ ’’وہ نبی‘‘ ان کی پہلی بعثت کے بعد اور دوسری بعثت سے پہلے آئے گا۔چنانچہ لکھا ہے۔’’ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے (یعنی مسیح کو) اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے نبیوں کی زبانی شروع سے کیااپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہاکہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوںسے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھاوے گا جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو۔اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے‘‘۔(اعمال باب ۳ آیت ۲۱ تا ۲۴) ان الفاظ میں حواری حضرت مسیحؑ سے خبر پاکر بتاتے ہیں کہ مسیح کے دوبارہ آنے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ نبی آجائے جس کی تمام انبیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں۔وہ صاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ پیشگوئیوں میں ایک شریعت لانے والے نبی کے متعلق جو خبر دی گئی تھی مسیحؑ کی دوبارہ بعثت اس کے بعد ہوگی جس کے معنے یہ ہیں کہ مسیحؑ اس پیشگوئی کا مصداق نہیں بلکہ آنے والا نبی جو اپنے ساتھ شریعت رکھتا ہوگا جو مسیحؑ کی بعثت اوّل اور بعثت ثانیہ کے درمیان آئے گا وہ اس کا مصداق ہوگا۔اس موقعہ پر عیسائی کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش عالم کا نقطہ مرکزی قرار دینا غلط ہے۔نقطہ مرکزی بہرحال مسیح ؑہے جس نے صاحب شریعت نبی کے بعد آنا ہے۔مگر یہ سوال بھی حل ہوچکا ہے کیونکہ مسیح ثانی جس نے مبعوث ہونا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوچکا ہے