تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 387
ان الفاظ میں حضرت مسیحؑ نے نہ صرف غیر قوموں کو تبلیغ کرنے کی ممانعت کی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔سامری وہ لوگ تھے جو بنی اسرائیل سے مخلوط تھے اور آدھے بنی اسرائیل کہلاتے تھے مگر حضرت مسیحؑ ان کو بھی تبلیغ کرناجائز نہیں سمجھتے کجا یہ کہ غیر قوموں کو اپنے مذہب میں داخل کرنا آپ جائز سمجھتے۔پس وہ پیشگوئی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمائی تھی مسیحی مذہب کے ذریعہ بھی پوری نہیں ہوئی۔وہاں یہ خبر تھی کہ ابراہیمی نسل سے ساری قومیں برکت پائیں گی اور مسیحی مذہب کے بانی نے اپنے بارہ حواریوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ غیرقوموں کو تبلیغ نہ کریں اور صرف یہود کو تبلیغ کریں۔پس مسیحی مذہب کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سب قوموں کو برکت دینے کے لئے آیا تھا۔مذکورہ بالا حوالہ میں ’’پہلے‘‘ کے لفظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔بعض عیسائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ پہلے بنی اسرائیل کو تبلیغ کرنے کا حکم تھا۔یہ حکم نہیں تھا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ اور کسی قوم کو تبلیغ ہی نہ کی جائے۔مگر یہ صحیح نہیں۔کیونکہ اوّل تو یہ واضح ہے کہ جب تک سب بنی اسرائیل ایمان نہ لائیں دوسروں کو تبلیغ کرنا منع ہے اور چونکہ یہودی ابھی تک موجود ہیں اس لئے عیسائیوں کو غیرقوموں میں تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔دوسرے خود حضرت مسیحؑ نے اپنے اس حکم کی تشریح کردی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم بنی اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے‘‘۔(متی باب ۱۰ آیت ۲۳) ان الفاظ میں حضر ت مسیحؑ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک میں دوبارہ واپس نہ آجائوں تم بنی اسرائیل کی تبلیغ کو ختم نہیں کرسکو گے۔گویا مسیح کے دوبارہ آنے تک ان کی قوم کے لئے صرف بنی اسرائیل میں تبلیغ مقدر ہے کسی اور قوم کو تبلیغ کرنا ان کے لئے جائز نہیں۔ہاں بعثت ثانیہ میں سب دنیا کو تبلیغ ہوگی۔پس اس جگہ ’’پہلے‘‘ کے وہی معنے لئے جائیں گے جو حضرت مسیحؑ کے دوسرے کلام سے ثابت ہیں اور وہ معنے یہی ہیں کہ مسیحؑ کی بعثت ثانیہ سے پہلے عیسائیوں کو یہود کے علاوہ اور کسی کو تبلیغ کی اجازت نہیں۔حضرت مسیحؑ صاف طور پر فرماتے ہیں کہ جب تک میں دوبارہ نہ آجائوں تم یہود کی تبلیغ سے فارغ نہیں ہو سکو گے جس کے معنے یہ ہیں کہ میرے دوبارہ آنے تک تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اپنی تبلیغ صرف یہود تک محدود رکھو۔جب میں دوبارہ آجائوں گا تو پھر تمہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ تم ساری دنیا کو تبلیغ کرو۔پھرمسیح علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔(متی باب ۱۵ آیت ۲۴)