تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 385
پیشگوئی اس کے ذریعہ پوری ہوئی ورنہ محض فلسطین پر قبضہ کوئی چیز نہیں اس پر قبضہ تو رومیوں نے بھی کرلیا تھا۔(Encyclopedia of religion and Ethics Under Word (Sunday) in the Primitive Church) یہ چار شرطیں اگر کسی قوم میں پائی جاتی ہیں تو وہ صرف مسلمان ہیں۔چنانچہ اوّل۔مسلمانوںکاخوداللہ تعالیٰ نے نام رکھا وہ فر ماتا ہے هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا (الحج:۷۹) تمہارا مسلم نام اللہ تعالیٰ نے آپ رکھا ہے۔دوم۔یہ نام ایسا ہے جو ابدی ہے کوئی شخص اس کو بدلنے کی طاقت نہیںرکھتا۔ایک مسلمان ہر وقت مسلمان ہی کہلائے گا۔خواہ وہ دنیا کے کسی خطہ میں رہتا ہو۔سوم۔بیگانے کی اولاد یعنی غیر اقوام کا داخلہ صرف اسلام میں جائز ہے اور یہی وہ مذہب ہے جس نے اپنی دعوت کو کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں کیا بلکہ دنیا کی ہر قوم تک خدائے واحدکا پیغام پہنچایاہے۔چہارم۔سبت کے محافظ بھی مسلمان ہی ہیں کیونکہ انہوں نے جمعہ کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے اور کبھی اس کو بدلنے کا خیال تک بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا۔پنجم۔فلسطین پر بھی مسلمان قابض ہوئے یہاں تک کہ تیرہ سو سال ان کے قبضہ پر گذر گئے اور اب تک وہ فلسطین پر قابض ہیں۔بہرحال یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی نے بتا دیا کہ دنیا کے روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ یسعیاہ نہیں تھے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کی پیدائش کا مقصود ان کے ذریعہ پورا ہوا کیونکہ وہ خود اپنے بعد ایک اور عظیم الشان نبی کی بعثت کی خبر دے چکے ہیں۔پھر حضرت مسیحؑ آئے۔کیا پیدائش انسانی کا وہ مقصود تھے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔کیونکہ اوّل۔مسیحی مذہب نسل ابراہیمؑ سے نہ تھا بلکہ عیسائی تو الگ رہے خود مسیحؑ ہی نسل ابرا ہیمؑ سے نہ تھے کیونکہ وہ عیسائیوں کے اعتقاد کے مطابق خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے۔جب وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے تھے تو ابراہیمؑ کی نسل میں سے کس طرح ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے تو حضرت ابراہیمؑ سے یہ کہا تھا کہ ’’تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پاویں گی‘‘ پس اگر کسی شخص کے ذریعہ یہ پیش گوئی پوری ہو سکتی ہے تو وہ وہی ہو سکتا ہے جو ابرا ہیمؑ کی نسل میں سے ہو نہ وہ جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہتا ہو۔اگر عیسائی کہہ دیںکہ حضرت مسیحؑ سے زمین کی ساری قوموں نے برکت حاصل کر لی ہے تب بھی ہم کہیں گے کہ یہ پیشگوئی ابھی پوری ہونی باقی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں خبر یہ دی ہے کہ