تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 384
یہ پانچ چیزیں جس مذہب میں پائی جائیں گی وہی اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا جاسکے گا۔یسعیاہ کے بعد بنی اسرائیل میں سب سے بڑے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام گزرے ہیں مگر سوائے فلسطین پر قابض ہونے کے اور کوئی بات بھی ان کے ذریعہ پوری نہیں ہوئی۔مثلاً یسعیاہ نبی کو یہ بتایا گیا تھا کہ میں ان کو ایک نیا نام بخشوں گا جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہتر ہوگا۔یہ نام صرف مسلمانوں کو ملا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا (الحج:۷۹) کہ پرانے زمانہ سے تمہارا نام مسلم رکھا گیا ہے لیکن عیسائیوں کا کوئی نام ہی نہیں وہ کبھی نصاریٰ کہلاتے ہیں، کبھی مسیحی اور کبھی عیسائی یعنی عیسیٰ کی طرف نسبت پانے والے۔انگریز اپنے آپ کو کرسچنز کہتے ہیں مگر یہ بھی کوئی نام نہیں بلکہ اس کے معنے صرف مسیحؑ کی طرف منسوب ہونے والوں کے ہیں۔غرض عیسائیوں کا کوئی نام ہی نہیں۔پہلے زمانہ میں وہ کچھ کہلاتے تھے پھر کچھ اور کہلانے لگ گئے اور اسی طرح ان کے نام میں تبدیلی ہوتی چلی گئی۔وہ قوم جس کا ایک نام رکھا گیا ہے اور جس کا نام کسی انسان نے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ صرف مسلمان ہیں اور اسی نام کے متعلق یسعیاہ نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ’’ایک نام جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہتر ہے بخشوں گا‘‘۔اگر عیسائی اپنے آپ کو اس پیشگوئی کامصداق قرار دیتے ہیں تو کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا عیسائی نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھا گیا ہے۔اگر وہ ایسا دعویٰ کریں تو یہ بالکل بے بنیاد ہوگا کیونکہ بائبل سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام عیسائی رکھا ہے۔پھر یہ خبر دی گئی تھی کہ ان کو ابدی نام دیا جائے گا جو کبھی مٹایا نہیں جائے گا۔یعنی زمانہ کے تغیرات اور ملکوں اور علاقوں کے اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا جو نام رکھا جائے گا وہ ہمیشہ قائم رہے گا اس میں کبھی کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آئے گی۔پیشگوئی کا یہ حصہ بھی ایسا ہے جو عیسائیوں پر چسپاں نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اوّل تو ان کا کوئی نام ہی نہیں اور پھر جو کچھ وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں اس میں بھی تبدیلی ہوتی چلی آئی ہے۔تیسری خبر یہ دی گئی تھی کہ بیگانے کی اولاد اس مذہب میں داخل ہوگی۔لیکن حضرت مسیحؑ اپنے حواریوں سے کہتے ہیں کہ تمہیں غیرقوموں کو تبلیغ کرنے اور انہیں اپنے مذہب میں داخل کرنے کی اجازت ہی نہیں۔چوتھی خبر یہ دی گئی تھی کہ وہ سبت کی حفاظت کریں گے لیکن عیسائی وہ ہیں جنہوں نے سبت کی حفاظت کرنے کی بجائے روم کے بادشاہوں کو خوش کرنے کے لئے ہفتہ کو اتوار سے بدل دیا اور اس طرح سبت کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔یہ چار شرطیں جس قوم میں پائی جائیں گی اسی کا فلسطین پر قبضہ اس بات کی علامت سمجھا جاسکتا ہے کہ یسعیاہ کی