تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 383
’’ اور ایک نام جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہترہے بخشوں گا۔میں ہر ایک کو ابدی نام دوں گاجو مٹایا نہ جائے گا اور بیگانے کی اولاد جنہوں نے اپنے تئیں خداوند سے پیوستہ کیا ہے کہ اس کی بندگی کریں اور خداوند کے نام کو عزیز رکھیں اور اس کے بندے ہوویں۔وہ سب جو سبت کو حفظ کرکے اسے ناپاک نہ کریں اور میرے عہد کو لئے رہیں میں ان کو بھی اس مقدس پہاڑ پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں انہیں شادمان کروں گا‘‘۔(یسعیاہ باب ۵۶ آیت ۵ تا ۷) یسعیاہ نبی یہ پیشگوئی کرتے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الٰہی قوم کو ایک نیا نام دیا جائے گا اور وہ اتنا پیارا ہوگا کہ لوگ اسے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے بھی زیادہ پسند کریں گے۔یہ توپسند کرلیں گے کہ ان کا بیٹا مرجائے یا ان کی بیٹی مر جائے مگر وہ اس نام کو چھوڑنا پسند نہیں کریں گے۔یہ اسلام کا نام ہے جو مسلمانوں کو عطا کیا گیا اور جس کے متعلق یسعیاہ نبی یہ خبر دے رہے ہیں کہ وہ نام اتنا پیارا ہوگا کہ لوگ اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑنا اور ان کا اپنی آنکھوں کے سامنے مارا جانا گوارا کرلیں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ اسلام چھوٹ جائے اور یہ پیارا نام ان کے ساتھ نہ رہے۔پھر یہ کہ وہ مذہب ایسا ہوگا جس میں غیر قومیں بھی شامل ہوں گی اور ’’اپنے تئیںخداوند سے پیوستہ‘‘ کریں گی۔یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی بتائی گئی تھی کہ زمین کی ساری قومیں تیری نسل سے برکت پائیں گی۔یسعیاہ نبی بھی یہی کہتے ہیں کہ غیرقومیں اس مذہب میں داخل ہوں گی اور خدا تعالیٰ سے محبت کا تعلق پیدا کرکے اس کا قرب حاصل کریں گی۔پھر فرمایا کہ وہ لوگ سبت کی بے حرمتی نہ کریں گے۔اسی طرح فرمایا ’’میں ان کو بھی اس مقدس پہاڑ پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں انہیں شادمان کروں گا‘‘۔یعنی وہ لوگ اس ملک پر آکر قابض ہوجائیں گے۔یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی پر اگر غور کیا جائے تو اس میں پانچ باتیں نظر آتی ہیں۔اوّل۔ان کو ایک نیا نام ملے گا۔دوم۔وہ نام ابدی ہوگا جو کبھی مٹایا نہیں جائے گا۔سوم۔غیر اقوام کے لوگ بھی ان کے مذہب میں شامل ہوں گے۔چہارم۔وہ سبت کی حفاظت کریں گے۔پنجم۔ان کو بھی بنی اسرائیل کے علاقہ میں لاکر قابض کردیا جائے گا۔