تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 382

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے آپ کو ارتقائے روحانی کا آخری نقطہ قرار نہیں دیا۔پیدائش انسانی کے آخری نقطہ کے متعلق حضرت داؤد علیہ السلام کی پیشگوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو انبیاء آئے ان میں ایک اہم نبی حضرت دائود علیہ السلام ہیں جن کو بہت بڑی عظمت دی جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ آیا انہوں نے اس مقصد کو پورا کیا۔اس کا جواب بھی ہمیں نفی میں ملتا ہے کیونکہ وہ خود کہتے ہیں۔’’اس کا منہ شیرینی ہے ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا یہ میرا جانی ہے‘‘ (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۶) اردو بائبل میں تو ’’سراپا عشق انگیز‘‘ کے الفاظ آتے ہیں مگر عبرانی بائبل میں یہاں لفظ ’’محمدیم‘‘ لکھا ہوا ہے یعنی محمدؐ۔کئی مترجموں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کا ترجمہ ’’عشق انگیز‘‘ کردیا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے محمدؐ نے یوں کہا تو اس کا ذکر ان الفاظ میں کردیا جائے کہ ایک صاحب تعریف آدمی نے یوں کہا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ نام پر پردہ ڈالنے اور دوسرے کو دھوکا دینے والی بات ہوگی۔اسی طرح عیسائیوں نے بھی بائبل کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ’’محمدیم‘‘کا ترجمہ ’’عشق انگیز‘‘ کردیا حالانکہ عبرانی بائبلیں دنیا میں اب تک موجود ہیں اور ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وہاں ’’محمدیم‘‘ لکھا ہوا ہے یعنی وہ محمدؐ ہے۔(اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد کے بعد یم کے حروف بھی ہیں جو جمع کے لئے آئے ہیں مگر ساری عبارت سے ظاہر ہے کہ یہاں ایک شخص کا ذکر ہے۔پس جمع کا صیغہ ادب اور احترام کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے نہ کہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ کسی جماعت کی خبر دی جارہی ہے)۔پھر اس کی علامت حضرت دائودؑ نے یہ بھی بتائی ہے کہ ’’دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے‘‘ (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰)۔یہ وہی علامت ہے جس کا موسٰی کی پیشگوئی میں ذکر آتا ہے اور جو فتح مکہ کے وقت پوری ہوئی۔غرض حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ تک ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ تمام انبیاء یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ ایک اور نبی ابھی آنے والا ہے جو کامل شریعت اپنے ساتھ لائے گا اور جو تمام نبیوں کا محبوب اور پیارا ہوگا۔یسعیاہ نبی کے کلام میں آخری نقطہ انسانی کی پیشگوئی حضرت دائود علیہ السلام کے بعد جو انبیاء آئے ان میں سے ایک بڑے نبی حضرت یسعیاہ ہیں۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یسعیاہ نبی کو بہت بڑی اہمیت حاصل تھی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یسعیاہ نبی پیدائش انسانی کا آخری نقطہ تھے؟ اور کیا ان کے آنے سے وہ مقصد پورا ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔کیونکہ وہ خود فرماتے ہیںـ۔