تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 377

بھاگ جائے۔مثلاً لکڑی کا آخری سرا لکڑی کا ہی ہوگا اگر کوئی کہے کہ لکڑی کا آخری سرا پانی یا ہوا ہے تو یہ بالکل بےجوڑ بات ہوگی۔بہرحال آخری سرا اپنے پہلے سرے سے وابستہ ہوتا ہے۔سونے کا آخری سرا سونے کا ہوگا۔چاندی کا آخری سرا چاندی کا ہوگا۔لوہے کا آخری سرا لوہے کا ہوگا۔اگر کوئی کہے کہ سونے یا چاندی یا لوہے کا آخری سرا لکڑی کا ہے تو سب لوگ ہنسنے لگ جائیں گے کہ کیسی بیوقوفی کی بات کررہا ہے۔اسی طرح جب آدمؑ سے شریعت کا ایک تسلسل چل رہا تھا آدمؑ سے بہتر شریعت نوحؑنے پیش کی، نوحؑسے بہتر شریعت موسٰی نے پیش کی تو بہرحال آخری نقطہ وہ ہوگا جو موسٰی سے بھی بہتر شریعت پیش کرے۔وہ نہیں ہوسکتا جو شریعت کو لعنت قرار دے۔پس عیسائیوں کا یہ دعویٰ بھی بالکل باطل ہے کہ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ حضرت مسیحؑ ہیں۔ابتدائے عالم میں کامل شریعت نازل نہیں ہوسکتی تھی ہندو جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ابتدائے عالم میں ہی کامل شریعت نازل ہوگئی تھی(نسخہ خبط احمدیہ مصنفہ پنڈت لیکھرام صفحہ ۳۴۵) ان کے اس دعویٰ کو قرآن کریم نے عقلی دلائل سے اسی سورۃ میں ردّ کردیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اپنی پیدائش کی طرف تم دیکھو کہ وہ کس طرح ہوئی ہے۔کیا پہلے دن ہی تم عاقل بالغ اور سمجھدار بن جاتے ہو یا آہستہ آہستہ اور بتدریج ترقی کرتے کرتے اپنے انتہائی مقام تک پہنچتے ہو؟ اگر فردکی پیدائش میں ترتیب اور تدریج کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے دن ہی ایک کامل انسان پیدا ہوجائے تو روحانی امور میں تم تدریج کا کیوں انکار کرتے ہو؟ جس طرح جسمانیات میں تدریج کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح روحانیات میں بھی ارتقاء کئی تدریجی منازل کو طے کرنے کے بعد ہوتاہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ارتقائی منازل کو طے کئے بغیر پہلے دن ہی کوئی چیز کامل بن جائے۔ارتقاء کا یہ قانون نہ صرف پیدائش انسانی میں نظر آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ہر پیدا کردہ چیز میں ہے۔یہاں تک کہ مادیات میں بھی ارتقاء کا قانون جاری ہے۔سورج اور چاند بھی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ جیسا کہ علم ہیئت نے ثابت کیا ہے پہلے یہ دخانی ذرات کی شکل میں تھے پھر ان میں دوری حرکت پیدا ہوئی پھر یہ ذرات ایک دوسرے سے ملنے شروع ہوئے پھر انہوں نے ایک ٹھوس وجود کی شکل اختیار کی۔اس کے بعد پھر ایک لمبا دور ان پر گزرا یہاں تک کہ لاکھوںسال کے بعد انہوں نے سورج یاچاند کی شکل اختیار کی۔یہی حال لوہے اور چاندی کا ہے کہ وہ بھی ایک لمبے ارتقاء کے بعد ظاہر ہوئے۔کوئلہ کتنی معمولی چیز ہے مگر یہ بھی ایک دن میں نہیں بنا بلکہ ہزاروں سال کے بعد بنا ہے۔اسی طرح ہیرا لاکھوں سال کے تغیرات کے بعد پید اہوتا ہے۔ہیرے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ کوئلہ میں سے پیدا ہوتا ہے گویا پہلے درختوں سے جو مدتوں تک زمین میں دبے رہتے ہیں کوئلہ تیار ہوتا ہے اور پھر کوئلہ سے ہیرا بنتا ہے۔