تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 374
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ میں علاوہ اور مضامین کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاملہ کی طرف بھی اشارہ پایاجاتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ تو اس رب کے نام کے ساتھ اس تعلیم کا دنیا میں اعلان کر جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کا مفہوم یہ نکلا کہ پیدائش عالم کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ نے تیرے اس کام کی بنیاد رکھی تھی اس لئے وہ خدا جس نے اس مقصد عظیم کے لئے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اس کی مدد اور تائید و نصرت کے ساتھ تو دنیا میں اپنی نبوت کا اعلان کر۔کیونکہ پیدائش عالم کی غرض صرف تیرے وجود کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا۔پس جس طرح بِاسْمِ رَبِّكَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اظہار کیا گیا تھا اسی طرح الَّذِيْ خَلَقَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاملہ کا اعلان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس دن سے مخلوق پیدا ہوئی ہے اس دن سے صرف تو ہمارا مقصو دتھا اور جب سے ہم نے پہلا انسان دنیا میں پیدا کیا ہے اسی دن سے وہ کلام ہمارے مدنظر تھا جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے اب جبکہ تو جو دنیا کا حقیقی مقصود ہے پید اہوچکا ہے ہم تجھے کہتے ہیں کہ تو دنیا کے پاس جا اور اسے کہہ کہ مجھ پر جو کلام نازل ہوا ہے وہ اتنی بڑی عظمت اور شان رکھتا ہے کہ جب سے اس دنیا کا پہلا ذرّہ بنا ہے اسی وقت سے یہ کلام اللہ تعالیٰ کے مدنظر تھا۔اگر آج کا پیغام ہوتا تب بھی تم اسے ٹھکرا کر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے تھے لیکن یہ تو وہ پیغام ہے جس کے لئے اس نے دنیا کی بنیاد رکھی اور یہی وہ پیغام ہے جو پیدائش عالم کا موجب ہوا۔اتنے بڑے پیغام کو ٹھکر اکر تم خدا تعالیٰ کے عذاب سے کہاں بچ سکتے ہو۔پس فرمایا تو اس کلام کو میرا نام لے کر پیش کر یعنی بحیثیت رسول ہونے کے اسے دنیا کے سامنے رکھ۔ایک عام آدمی کی حیثیت سے نہیں بلکہ سرکاری حیثیت سے تو ہماری طرف سے جا اور لوگوں سے کہہ کہ جس خدا نے شروع سے لے کر اب تک تمام مخلوق پیدا کی ہے اس نے مجھے بھیجا ہے یعنی پیدائش عالم کی جو غرض تھی وہ آج میرے ذریعہ سے پوری ہوئی ہے۔اس لئے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو دنیا کی پیدائش کو لغو قرار دیتے ہو۔اسی امر کی طرف اس حدیث قدسی میں اشارہ ہے کہ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (الموضوعات الکبرٰی لملا علی قاری حدیث نمبر ۷۵۴) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین اور آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔الَّذِيْ خَلَقَ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیاہے کہ تو اس خدا کا نام لے کر دنیا میں اپنی نبوت کا اعلان کر جس نے پیدائش عالم کے زمانہ سے تیرے اس کام کی بنیاد رکھی تھی۔گویا وہ مضمون جو حدیث قدسی میں آتا ہے درحقیت نہایت لطیف پیرایہ میں قرآن کریم میں بھی بیان کیا جاچکا ہے اور وہ حدیث اس آیت کی تشریح ہے۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ تو اس خدا کا نام لے کرپڑھ جس نے