تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 373
مراد نہیں جن کی ربوبیت بولنے کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ ربّ بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت بالغ اور جوان ہونے کے وقت سے شروع ہوتی ہے بلکہ وہ ربّ مراد ہے جس کی ربوبیت خَلَقَ کے وقت سے شروع ہوتی ہے یعنی جب سے کہ مخلوق کا وجود ظاہر ہوا۔بے شک مختلف لوگوں کے لئے مختلف نسبتوں کی بناء پر ربّ کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے مگر ہم تجھے کہتے ہیں تو اس ربّ کے نام سے شروع کر جس کی ربوبیت خَلَقَ کے وقت سے شروع ہوتی ہے کہ جہاں سے وہ تیرا ساتھ دے رہا ہے۔کوئی تیرا عزیز اور ساتھی وہاں سے تیرا ساتھ نہیں دے رہا۔اس کی ربوبیت کے مقابلہ میں باقی تمام ربوبیتیں باطل اور ہیچ ہیں اور کسی کو اس کی ربوبیت میں شریک ہونے کا دعویٰ نہیں ہوسکتا (ہاں مسلمان مولویوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ امر منسوب کردیا ہے کہ وہ پرندے پیدا کیا کرتے تھے(معارف القرآن سورۃ اٰلِ عـمران زیر آیت رَسُوْلًا اِلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ) اور اس طرح انہوں نے اپنی کج فہمی سے اللہ تعالیٰ کی صفات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شریک بنادیا ہے)۔اس آیت میں ایک اور عجیب بات بھی نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے صرف ربّ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا بلکہ رَبِّكَ کا لفظ استعمال کیا تھا مگر آگے خَلَقَکَ کہنے کی بجائے صرف خَلَقَ کہہ دیا ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ رَبِّكَ میں ک ضمیر کے بڑھانے سے چونکہ شرک کی تردید اور اس عقیدہ کی تائید ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔اس لئے وہاں تو ک ضمیر کو بڑھادیا لیکن اگر یہاں بھی خَلَقَ کی بجائے خَلَقَکَ کہہ دیا جاتا تو ایک وسیع مضمون محدود ہوکر رہ جاتا۔الَّذِيْ خَلَقَكَ کے معنے صرف اتنے ہوتے کہ وہ خدا جس نے تجھ کو پیدا کیا مگر الَّذِيْ خَلَقَ کے یہ معنے بن گئے کہ وہ خدا جس نے تجھ کو بھی پیدا کیا اور باقی تمام مخلوق کو بھی پیدا کیا ہے۔گویا الَّذِيْ خَلَقَ کے معنے یہ ہیں کہ الَّذِيْ خَلَقَكَ وَخَلَقَ اٰبَآءَکَ وَجَدَّکَ وَاٰبَآءَ جَدِّکَ اس طرح یہ سلسلہ چلتے چلتے حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچ جاتا ہے اور ان سے اوپر عناصر اور پھر اجزائے عناصر تک چلا جاتا ہے۔پس الَّذِيْ خَلَقَ کو بغیر کسی قید کے مطلق بیان کرکے اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کی غیرمحدود وسعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تو اس خدا کو پیش کر جس نے خالق اور مخلوق کا رشتہ آپس میں جوڑ ا اور جس کی صفت خلق کا آغاز تجھ سے نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ سے دنیا اس کی صفت خلق کا نظارہ دیکھتی چلی آئی ہے۔دیکھو یہ قرآن کریم کا کتنا کمال ہے کہ ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کو مقید کرکے اس کے معنوں میں وسعت پیدا کردی ہے اور دوسری صفت کو مطلق رکھ کر اس کے معنوں میں وسعت پید اکردی ہے۔ایسی بالغ نظری انسانی کلام میں کہاں ہوتی ہے۔